مذاکرات: حکومت نے عوامی تحریک کو نیشنل ریفارمز کونسل قائم کرنے کی تجویز دیدی

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) حکومت اور عوامی تحریک کے درمیان مذاکرات میں حکومت نے عوامی تحریک کے اصلاحات پر مشتمل 10 نکاتی ایجنڈے  پر غور کیلئے ماہرین کی ایک ٹیم  تشکیل دینے کی تجویز دیدی ہے۔ اس مقصد کیلئے نیشنل ریفارمز کونسل کے نام سے ایک ادارہ  بنایا جائے گا  جو دس نکات پر عملدرآمد کے حوالے سے جائزہ لیگا۔ اس تجویز کے حوالے سے عوامی تحریک نے کل تک کا وقت مانگا ہے۔ مذاکرات بدھ کو رحمن ملک کی رہائشگاہ پر ہوئے۔ مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال نے  صحافیوں سے بات چیت میں کہا کہ تجاویز کے آئینی، قانونی اور فائدہ مند ہونے کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نیشنل ریفارمز کونسل  کے عوامی تحریک کے  مطالبات کا جائزہ لے گی۔ انکا  سب سے اہم مطالبہ ایف آئی آر کاٹنے کا ہے اس پر عملدرآمد ہو چکا ہے اور سانحہ ماڈل ٹائون کی شفاف تحقیقات کیلئے حکومت نے بھی اتفاق کیا ہے، انتخابی اصلاحات اور دیگر جائز  مطالبات پر بھی  عملدرآمد پر اتفاق ہو چکا ہے، حکومت خود یہ چاہتی ہے کہ عوامی تحریک کے جائز مطالبات سے ہم بھی فائدہ اٹھائیں، حکومت سمیت پوری پارلیمنٹ اس بات پر متفق ہے کہ وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے۔  عوامی تحریک کے صدر رحیق عباسی نے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹائون کی ذمہ دار پنجاب حکومت ہے، وزیراعلیٰ پنجاب براہ راست واقعے کے ذمہ دار ہیں، ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا، چاہتے ہیں کہ حکومت کے ساتھ جلد کسی نکتے پر بات چیت طے ہو جائے۔ سانحہ ماڈل ٹائون کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئے جو ڈیشل کمشن کی رپورٹ حکومت کو قصور وار ٹھہرا رہی ہے، پارلیمنٹ میں ہمیں باغی کہا جاتا ہے اور یہاں ہمارے مطالبات ماننے کی باتیں کی جاتی ہیں۔ حکومت سنجیدہ نہیں ہے۔