توانائی کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جائے: صدر ممنون

 اسلام آباد (این این آئی) صدر مملکت ممنون حسین نے کہا ہے کہ بدعنوانی کیخلاف جہاد کرنے کی ضرورت ہے، ہر شخص کو اس برائی کیخلاف آواز اٹھانی چاہئے، ہمیں دلجمعی اور دیانتداری سے اپنی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے، توانائی کے منصوبوں کی تکمیل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنے والوں کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے، ملک کی ترقی کیلئے کئی منصوبے شروع کئے گئے،  منصوبے مکمل ہونے پر پاکستان اقتصادی سرگرمیوں کا محور بن جائیگا، وہ بدھ کو یہاں مقامی ہوٹل میں پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے زیر اہتمام ہارٹ اینڈ میڈیکل کمپلیکس منصوبے کے سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ  دوست ممالک ہماری معاونت کیلئے آمادہ ہیں، بالخصوص چین، ترکی اور سعودی عرب پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین کی معاونت سے 10 ہزار 500 میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کے منصوبے شروع کئے گئے، داسو اور دیامر بھاشا ڈیم پر کام شروع کیا گیا ہے۔ صدر نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کاشغر سے گوادر تک یہ عظیم الشان منصوبہ مکمل ہونے پر پاکستان خطے کا اہم ترین ملک بن جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ 2008ء میں ملک پر قرضوں کا بوجھ 6700 ارب روپے تھا جو 2013ء میں بڑھ کر 14 ہزار 800 ارب روپے ہو گیا ہے جبکہ اس عرصہ کے دوران اشد درکار توانائی کیلئے ڈیمز سمیت کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ بھی شروع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امراض قلب کی بناء پر پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں جس سے ہمیں اس مرض کی ہولناکی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ہمیں ان وجوہات کا جائزہ لینا چاہئے جن کی بناء پر امراض قلب میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جدید تحقیق کے مطابق ہمارا طرز عمل اور غیر صحت مندانہ رہن سہن بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سادہ طرز عمل اپنانے سے اس قسم کی بیماریوں سے باآسانی چھٹکارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس موقع پر صدر نے کمپلیکس کیلئے 20 لاکھ روپے کے عطیہ کا اعلان بھی کیا۔