بھارت سے آئندہ مذاکرات کے ایجنڈامیں کشمیر شامل ہو گا‘ نواز‘ مودی ملاقات کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا: سرتاج عزیز

بھارت سے آئندہ مذاکرات کے ایجنڈامیں کشمیر شامل ہو گا‘ نواز‘ مودی ملاقات کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا: سرتاج عزیز

اسلام آباد (آئی این پی+ آن لائن) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ  امور کو وزیراعظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے  بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم نوازشریف اور نریندر مودی کی ملاقات کا فیصلہ نہیں ہوا۔ بھارت نے کہا ہے کہ  آئندہ مذاکرات کے ایجنڈا میں مسئلہ کشمیر شامل ہوگا، حالیہ بارشوں کے دوران بھارت نے پاکستان کو پیشگی اطلاع دیکر دریائے چناب میں پانی چھوڑا، پانی کے بہائو کے بارے میں ہر گھنٹے بعد معلومات ملتی رہیں، بھارت نے دریائوں میں پانی چھوڑنے کے بارے میں اطلاع  دینے میں کبھی تاخیر نہیں کی تاہم  پاکستانی دریائوں پر ڈیموں کی تعمیر کے بارے میں معلومات تاخیر سے فراہم کی گئیں، بھارت سے بیک چینل کوئی بات چیت نہیں ہورہی، رواں سال ایل  او سی پر 93 مرتبہ فائرنگ کے واقعات  ہوئے جن میں 7 فوجی شہید، 29 زخمی ہوئے، افغان حکومت کے سامنے صوبہ کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کا معاملہ اٹھایا ہے۔ آپریشن ضرب عضب کی وجہ سے ایک لاکھ افراد افغانستان جانے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کا اجلاس چیئرمین حاجی عدیل کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں منعقد ہوا۔ مشیر خارجہ نے کہا کہ ہم کشمیر پر اپنے موقف پر قائم ہیں اور اس پر قائم رہتے ہوئے بھارت سے تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان بھارت خارجہ سیکرٹریوں کی مجوزہ ملاقات کیلئے نئی تاریخوں پر ابھی تک اتفاق نہیں ہوا، جہاں تک وزیراعظم نوازشریف کے دورہ بھارت کا تعلق ہے تو اسکا فیصلہ تاخیر سے ہوا تھا جس کی وجہ سے وزیراعظم کی کشمیری رہنمائوں سے ملاقات ممکن نہیں تھی۔ رواں سال ایل او سی پر فائرنگ کے 93 واقعات پیش آئے جن میں ہر بار بھارت نے پہل کی جبکہ ان میں پاک فوج کے 7 جوان شہید اور 29 زخمی ہوئے۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے سوال اٹھایا کہ تحریک طالبان کا سربراہ مولانا فضل اللہ افغان صوبے کنڑ میں موجود ہے جو وہاں سے پاکستان کے اندر دہشت گردی کروا رہا ہے، اس پر مشیر خارجہ نے بتایا کہ افغان حکومت سے صوبہ کنڑ اور نورستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کا معاملہ اٹھایا ہے، دونوں صوبے نیٹو افواج کے کنٹرول میں ہیں۔ وزیراعظم کے خصوصی نمائندہ محمود خان اچکزئی کے دورہ کابل کے بعد دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان تعاون کی نئی فضا قائم ہوئی۔ قائمہ کمیٹی نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں ہزاروں غیرملکی دہشت گردوں کے موجود ہونے کی رپورٹیں تھیں لیکن اب تک صرف 920 دہشت گرد مارے گئے ہیں، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بقیہ غیر ملکی دہشت گرد کہاں چلے گئے، حکومت کو چاہئے کہ اس حوالے سے کمیٹی کو قابل اطمینان جواب پیش کرے۔ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بیک چینل پر کوئی رابطہ نہیں‘ بھارت کی پوری توجہ مقبوضہ کشمیر میں 44 نشستوں کی جیت پر ہے بی جے پی وہاں زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا چاہتی ہے‘ مذاکرات بھارت کی جانب سے جلد بازی میں ختم کرنے پر دہلی کو عالمی دبائو کا سامنا ہے۔ ایک سوال پر سرتاج عزیز نے کہا کہ قومی سلامتی  کمیٹی کا آخری اجلاس فروری میں ہوا تھا اور وزیراعظم کی زیر صدارت اس کے بعد کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس شیڈول ہوا تھا مگر حالیہ بحران کی وجہ سے موخر کر دیا گیا۔ یہ اجلاس آئندہ ماہ دوبارہ ہوگا۔ دفتر خارجہ کے ڈی جی افغانستان ظہیر پرویز نے بتایا کہ جب تک افغانستان کی نئی حکومت نہیں آتی، ہمسایہ ملک کے  ساتھ  تعلقات کشیدہ رہنے کی امید ہے۔ پاکستان کی جانب سے بار بار افغانستان کی سرحد سے پاکستان پر دہشت گرد کارروائیوں کا معاملہ اٹھایا گیا ہے مگر افغان سکیورٹی فورس   تعاون نہ کرتے ہوئے افغانستان  کے اندر  دہشت گردی کے خفیہ ٹھکانوں پر کوئی کارروائی نہیں کر رہی‘ افغانستان کے صوبوں  کنہڑ اور نورستان کے علاقوں میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں ہیں۔ مولوی فضل اﷲ کی حوالگی کا بھی معاملہ اٹھایا  گیا ہے۔ خارجہ پالیسی میں افغانستان کو ترجیح حاصل ہے پاکستان کی افغانستان میں عدم مخالفت کی پالیسی ہے پاکستان میں 2012 ء میں افغان فورسز کی تربیت کیلئے بیس ملین ڈالر مختص کئے گئے مگر ابھی تک افغان فورسز کی ٹریننگ پر کوئی رقم ختم نہیں کی گئی۔ پاکستان نے افغانستان کو دفاعی منصوبوں کیلئے رقم دی ہے۔ کنہڑ اور نورستان میں میں دہشت گردوں کی خفیہ پناہ گاہیں ہیں جہاں سے پاکستان پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ مولوی فضل اﷲ کی حوالگی کا معاملہ سیاسی سطح پر افغانستان سے اٹھایا۔ پاکستان کو آپریشن ضرب عضب میں افغانستان سے تعاون کی امید تھی مگر افغانستان سکیورٹی فورسز تعاون نہیں کررہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحدی امورکے حوالے سے ایس او پی موجود ہے اس کا ازسر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔