بلدیاتی الیکشن: حکومت آئینی تقاضے پورے کرنے کو تیار نہیں تو کیا ہو سکتا ہے: جسٹس جواد

بلدیاتی الیکشن: حکومت آئینی تقاضے پورے کرنے کو تیار نہیں تو کیا ہو سکتا ہے: جسٹس جواد

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ میں سابق سیکرٹری دفاع آصف یاسین ملک کیخلاف توہین عدالت کا نوٹس خارج کرتے ہوئے جسٹس جواد ایس خواجہ نے  ریمارکس دیئے ہیں کہ بلدیاتی الیکشن حقیقی جمہوریت کی بنیاد ہیں، اسی کے ذریعے جمہوریت کو نچلی سطح تک منتقل کیا جا سکتا ہے تاہم اگر حکومت ہی آئینی تقاضے پورے کرنے کو تیار نہیں تو پھر کیا ہو سکتا ہے؟ آئل،  گیس کمپنیوں کے کیس میں عدالت میں کہا گیا تھا کہ رقم موجود ہے مگر اس کا بہتر استعمال بلدیاتی حکومتیں کر سکتی ہیں اگر پیسہ اسلام آباد چلا گیا تو وہاں خرچ نہیں ہو گا جہاں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ ریمارکس بدھ کو مقدمہ کی سماعت کے دوران دیئے۔ مقدمے کی سماعت جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس امیر ہانی مسلم پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی ۔ آصف یاسین کی جانب سے افتخار گیلانی وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل پیش ہوئے۔ افتخار گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ 19مارچ کو اپنے فیصلے میں متعلقہ حکومتوں اور الیکشن کمیشن کو 15نومبر تک بلدیاتی انتخابات کرانے کی ڈیڈ لائن دے چکی ہے۔ میرے موکل نے کنٹونمنٹ علاقوں میں انتخابات کرانے کیلئے حکومت اور الیکشن کمشن کو بار بار لکھا اس حوالے سے تمام سمریاں ریکارڈ کا حصہ ہیں مگر حکومت انتخابات کرانا ہی نہیں چاہتی تو ہم کیا کر سکتے تھے، کیونکہ بلدیاتی انتخابات کرانے سے موجودہ ارکان اسمبلی کے مزے ختم ہو جائیں گے۔ فنڈز بلدیاتی نمائندوں کے ذریعے خرچ ہونگے، ایک کیس میں میں نے عدالت کو ریکارڈ کے ساتھ بتایا تھا کہ بلوچستان میں ایک ایک رکن صوبائی اسمبلی کو بیس بیس کروڑ کے فنڈز دیئے گئے ہیں۔ اس کے باوجود میرا موکل غیر مشروط معافی بھی مانگ چکا ہے جو اب تک برقرار ہے حالانکہ وہ اب اپنے عہدے سے بھی ریٹائر ہو چکے ہیں۔ میری درخواست ہے کہ ان کو جاری کردہ توہین عدالت کا نوٹس خارج کیا جائے۔ عدالت نے آصف یاسین ملک کیخلاف توہین عدالت کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے ان سے پوچھا کہ آپ کا کیا خیال ہے بلدیاتی الیکشن کے انعقاد کیلئے کچھ ہو رہا ہے تو انہوں نے کہاکہ ابھی تک کچھ نہیں ہو رہا حکومت دیگر معاملات میں پھنسی ہوئی ہے تاہم یہ میری ذاتی رائے ہے کیونکہ اب میں کسی عہدے پر نہیں۔