ایمرجنسی کا نفاذ: مشرف نے شوکت عزیز‘ سابق گورنروں‘ سروسز چیفس اور دیگر کو شریک ملزمان بنانے کیلئے درخواست دائر کر دی

ایمرجنسی کا نفاذ: مشرف نے شوکت عزیز‘ سابق گورنروں‘ سروسز چیفس اور دیگر کو شریک ملزمان بنانے کیلئے درخواست دائر کر دی

اسلام آباد (ثناء نیوز) سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی مقدمہ کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے استغاثہ کے ساتویں گواہ ایف آئی اے کے آفیسر مقصود الحسن کے بیان میں جرح کا عمل مکمل کرنے کے بعد آج استغاثہ کے آخر ی آٹھویں گواہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ محمد خالد قریشی کو بیان ریکارڈ کروانے کے لئے طلب کر لیا ہے جبکہ پرویز مشرف کی طرف سے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ میں مبینہ طور پر ان کی معاونت کرنے والے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز ،سابق وفاقی وزراء ،کابینہ کے ممبران،چاروں صوبوں کے سابق گورنرز، پاکستانی فوج کے سروسز چیفس سمیت دیگر معاونین کو مقدمہ کے شریک ملزم بنانے کے لئے درخواست دائر کر دی گئی ہے جس میں عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت دائر کی گئی کمپلینٹ درست طریقہ کار کے تحت دائر نہیں کی گئی اسے خارج کیا جائے کیونکہ اس میں پرویز مشرف کی ایمرجنسی کے نفاذ میں معاونت کرنے والوں کے نام شامل نہیں کئے گئے ۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ عدالت کمپلینٹ کو واپس کرے یا عدالت خود اس مقدمہ میں معاونین کے نام شامل کرے۔عدالت نے پرویز مشرف کی درخواست پر پراسیکیوٹر اکرم شیخ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے جواب طلب کر لیا ہے۔پرویز مشرف کی درخواست کی کاپی عدالت کے روبرو استغاثہ کے حوالے کی گئی۔جسٹس  فیصل عرب کی سربراہی میں جسٹس طاہرہ صفدر اور جسٹس یاور علی خان پر مشتمل تین رکنی خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے سیکرٹری داخلہ شاہد خان کے ذریعے دائر درخواست کی سماعت کی۔دوران سماعت جرح کے دوران ایف آئی اے کے تحقیقاتی آفیسر مقصود الحسن نے فروغ نسیم کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ انہیں دوران تفتیش ایسی کوئی دستاویز نہیں ملی جس سے ثابت ہو کہ کسی ممبر پارلیمنٹ ،فوج کے کسی رکن یا حکومت کے کسی آفیسر نے ایمرجنسی کے حوالے سے پرویز مشرف کا حکم ماننے سے انکار کیا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے 1975ء کے ایکٹ کے تحت تحقیقات کرتی ہے۔ایکٹ کے رول3 کے سب رول 01 کے تحت تحریری معلومات ملنے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔انہوں نے اعتراف کیا کہ تحریری معلومات جن کی بنیاد پر یہ تحقیقات شروع ہوئیں ان کا ذریعہ موجودہ وزیر اعظم اور ان کے پرنسپل سیکرٹری ہیں تاہم تحقیقاتی ٹیم نے موجودہ وزیراعظم یا ان کے سیکرٹری کا بیان ریکارڈ نہیں کیا گیا۔