اہداف حاصل کر لئے گئے، آپریشن ضرب عضب اگلے ماہ مکمل کر لیا جائیگا: عسکری ذرائع

اسلام آباد( سہیل عبد الناصر) شمالی وزیرستان میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب اگلے ماہ مکمل کر لیا جائے گا۔ تین ماہ کی کارروائی کے دوران آپریشن کے بنیادی اہداف حاصل کر لئے گئے ہیں۔ اب باقی ماندہ علاقوں کی جانب فوج کی پیشقدمی جاری ہے اور زیر کنٹرول لائے گئے علاقوں میں پوزیشنیں مضبوط بنائی جا رہی ہیں اور اس کے ساتھ ہی آئی ڈی پیز کی گھروں کو واپسی کیلئے ایجنسی میں انفراسٹرکچر کی بحالی کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ عسکری ذرائع کے مطابق آپریشن ضرب عضب کی تکمیل کیلئے وقت کی حد مقرر کر دی گئی اور اکتوبر کے اختتام سے پہلے فوجی آپریشن ہر اعتبار سے مکمل کر لیا جائے گا۔ قومی امکان ہے کہ آپریشن کی تکمیل کے ساتھ ہی متاثرین کی گھروں کو واپسی کا عمل بھی شروع کر دیا جائے گا۔ شمالی وزیرستان سے متصل ایف آر کے علاقہ سے لے کر ایجنسی کے جنوبی اور مشرقی تمام علاقے کلیئر کرا لئے گئے ہیں۔ اب ایجنسی کے مغربی علاقوں میں شوال کے دشوار گزار علاقوں پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے جہاں مفرور دہشت گردوں نے ٹھکانے بنا رکھے ہیں۔ آپریشن کے اس مرحلہ پر ایک بار فضائیہ اور آرمی ایوی ایشن کا کردار اہم ہو گیا ہے جو دشوار گزار علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ اب تک کارروائی میں جو اہم اہداف حاصل کئے گئے ہیں وہ یہ ہیں کہ ایجنسی کے مختلف علاقوں سے ٹی ٹی پی، القاعدہ، وسط ایشائی اور چینی شدت پسندوں کے علاوہ حافظ گل بہادر جیسے مقامی شدت پسندوں کو بھی نکال باہر کیا گیا ہے۔ ٹی ٹی پی کا شیرازہ بکھیر دیا گیا۔ دیگر دہشت گرد دھڑے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ بلکہ ان کے درمیان خونریز جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ زیر کنٹرول علاقوں میں فوجی پوزیشنیں اس انداز میں مضبوط کی جا رہی ہیں کہ شدت پسند کہیں بھی اب دوبارہ ٹھکانے نہ بنا سکیں۔ میر علی اور میران شاہ سمیت جن علاقوں کا مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے وہاں جنگی بنیادوں پر انفراسٹرکچر بحال کیا جا رہا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ رواں سال ماہ جون میں آپریشن ضرب عضب شروع کیا گیا تھا۔ فوج کو اس آپریشن کے دوران غیر معمولی کامیابیاں ملیں اور دہشت گردوں کی طرف سے اسے کسی خاص مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔