چیئرمین سینٹ: وزیراعظم نے اکثریتی فیصلہ کے سامنے’’سرنڈر‘‘ کر دیا

اسلام آباد (محمد نواز رضا‘ وقائع نگار خصوصی) وزیر اعظم محمد نواز شریف نے میاں رضا ربانی کی چیئرمین سینٹ کیلئے متفقہ امیدوار کی حیثیت سے توثیق کر کے جہاں اکثریت کے فیصلے کے سامنے اپنے آپ کو ’’سرنڈر‘‘ کر کے اپنی ہاری ہوئی جنگ کو جیت میں تبدیل کر دیا ہے وہاں انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کا اعتماد حاصل کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان فاصلے کم ہو گئے ہیں۔ آصف علی زرداری نے میاں رضا ربانی جیسے تجربہ کار پارلیمنٹرین کو چیئرمین سینٹ کے طور پر سامنے لا کر وزیراعظم محمد نواز شریف کے لئے انہیں قبول کرنے کی گنجائش پیدا کر دی۔ چیئرمین سینٹ کی نشست پر 5,4 ووٹوں سے ہار جیت کا فیصلہ ہونا تھا۔ جن پر اثر خاندان کے لئے ’’چمک‘‘ کا استعمال نہیں کیا اور خوش دلی سے اپوزیشن کے فیصلے کو قبول کیا۔ ذرائع کے مطابق سیاسی حلقوں میں وزیراعظم کی مذاکراتی ٹیم میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی کمی شدت سے محسوس کی گئی۔ وہ پچھلے کئی دنوں سے سیاسی منظر پر نظر نہیں آ رہے چودھری نثار علی خان جو ’’مذاکرات کی میز‘‘ پر مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کی شہرت رکھتے ہیں ان کے مذاکرات میں شامل نہ ہونے سے ایم کیو ایم ‘ اے این پی اور مسلم لیگ (ق) کو رام نہیں کیا جا سکا۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے میاں رضا ربانی کی بطور چیئرمین سینٹ قبولیت کر کے اپوزیشن کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا اور رات کو آصف علی زرداری کے عشائیے میں شرکت کر کے ماحول میں کشیدگی ختم کر دی۔ ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان اور اسفند یار ولی نے وزیراعظم کو اپوزیشن کے فیصلے کو قبول کرنے پر آمادہ کیا۔