غداری کیس: خصوصی عدالت کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج، کام سے روکنے کی استدعا

غداری کیس: خصوصی عدالت کی آئینی حیثیت سپریم کورٹ میں چیلنج، کام سے روکنے کی استدعا

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت)  سپریم کورٹ میں پرویز مشرف غداری کیس کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کی آئینی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے اسے فوری طور کام سے روکنے کی استدعا کی گئی ہے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے خصوصی عدالت فوجداری قانون ترمیمی ایکٹ 1976ء کی شق 4کے تحت تشکیل دی گئی جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 6(3)کی خلاف ورزی ہے ۔ کراچی کے رہائشی درخواست گزار سہیل حمید ایڈووکیٹ نے سیکرٹری قانون و انصاف ،وزارت داخلہ ،رجسٹرار خصوصی عدالت اور سابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل (ر) پرویز مشرف کو فریق بناتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 184(3)کے تحت درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے آئین کے آرٹیکل 6(3) کے تحت مجلس شوریٰ کو یہ اختیار حاصل ہے وہ غداری کے مرتکب شخص کا تعین کر کے اسے سزا دے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے فوجداری ترمیمی ایکٹ 1976ء کی شق 3 میں غیر قانونی و غیر آئینی طور پر آرٹیکل چھ کا اضافہ کیا گیا ۔درخواست میں استدعا کی گئی ہے درخواست کو سماعت کیلئے منظور کیا جائے۔