سانحہ کچہری، جج سمیت 12 جاں بحق افراد کا اندرونی پوسٹ مارٹم نہیں ہوا: انکشاف

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+ ایجنسیاں) کچہری اسلام آباد سانحہ میں جاں بحق افراد کے پوسٹ مارٹم کے حوالے سے اہم انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق ایڈیشنل سیشن جج سمیت 12 جاں بحق افراد کے اندرونی پوسٹ مارٹم نہیں ہوئے۔ انتظامیہ کے افسران نے ڈاکٹروں کو مکمل پوسٹ مارٹم سے روکا۔ پمز ذرائع کے مطابق میتوں کی حوالگی کیلئے بیرونی پوسٹ مارٹم میں عجلت کی گئی۔ جج رفاقت اعوان کے بازو کا ایکسرے بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ ایکسرے کے ذریعے اندر رہ جانے والی گولی کا پتہ چلایا جا سکتا تھا۔ پولیس کالج سہالہ سے بیلسٹک ماہر کو پمز آنے سے روک دیا گیا۔ حملے کے دوران کل تین دھماکے ہوئے۔ دو دھماکے خود کش حملہ آوروں نے خود کو اڑا کر کئے جبکہ تیسرا دھماکہ دستی بم کا تھا۔ دہشت گردوں نے دوسرا دستی بم پولیس پر پھینکا جو پھٹ نہ سکا۔ کرائم سین سے پولیس کو کلاشنکوف کی 17 گولیاں اور 62 خول کے علاوہ دہشت گردوں کی دو کلاشنکوفیں اور ایک دستی بم بھی ملا ہے۔ حملہ تین دہشت گردوں نے کیا۔ وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کچہری حملے سے متعلق ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ پر قومی اسمبلی میں قبل از وقت بیان دے کر تحقیقاتی افسران کو مشکلات سے دو چار کر دیا ہے۔ حملے میں شہید ہونے والے جج رفاقت حسین کے گارڈ کے سپریم کورٹ میں بیان کے بعد تحقیقاتی کمیٹی کی غیر جانبداری بھی خطرے میں پڑ گئی ہے، پیر کو ذرائع کے مطابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کچہری حملے کی تحقیقات مکمل ہونے سے قبل ہی قومی اسمبلی میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت حسین کی اپنے گارڈ کے ہاتھوں موت کا بیان دے کر ایک  نیا انکشاف کیا تھا جس پر شہید ہونے والے جج کے گارڈ بابر نے پولیس کو دوران تفتیش وزیرداخلہ کے بیان کی تردید کر دی۔