توہین عدالت بل سوئس اکاﺅنٹس، پرویز اشرف کو بچانے کی کوشش ہے: عمران

اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ توہین عدالت کا بل عدلیہ کی آزادی کیخلاف ہے۔ سپریم کورٹ پر یہ حملہ کیا گیا تو لانگ مارچ کرینگے، توہین عدالت بل کے ذریعے ملک کو 2حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے، ظالم اور مظلوم کیلئے مختلف قانون بنا دئیے گئے ہیں، سوئس بینکوں میں پیسے بچانے کیلئے عدالتوں کی خودمختاری ختم کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران نے کہا کہ فخر الدین جی ابراہیم دیانتدار شخص ہیں، ان پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ توہین عدالت بل راجہ پرویز اشرف کو بچانے کیلئے لایا گیا ہے۔ اوورسیز پاکستانی بڑا اثاثہ ہیں لیکن دوہری شہریت کا قانون بنانے کی اجازت نہیں دی جائیگی، یہ قانون ملک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو بچانے کیلئے لایا جا رہا ہے، توہین عدالت بل ملک کو این آر او کا تحفہ ہے اور کرپنش کا لائسنس ہے۔ جب عدالت ہاتھ لگائے گی تو کہیں گے جمہوریت خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر حکومت کی مدد کرنے والے ملک سے غداری کر رہے ہیں۔ بل کے حامی وکلا اپنا ضمیر بیچ چکے ہیں، پیشگوئی کرتا ہوں کہ عدالت اس قانون کو کالعدم قرار دیدیگی۔امتیازی قوانین جمہوریت کی روح، 73ءکے آئین، انصاف کے تقاضوں اور قرآن وسنت کے صریحاً خلاف ہے۔ اس موقع پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہیں اپنے بھائی مرید حسین قریشی کی پیپلزپارٹی میں شمولیت پر افسوس ہوا ہے، قبل ازیں فیصل آباد سے سابق ارکان اسمبلی ناصر علی بلوچ، سعد اللہ بلوچ، رجب علی بلوچ اور عباس علی لغاری نے تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔