سٹریٹ کرائمز میں اضافہ‘ گیس پریسر میں کمی‘ پانی کی شدید قلت‘ صفائی کے ناقص انتظامات

راولپنڈی (موبائل فورم رپورٹ: سلطان سکندر/ تصویر: ایم جاوید) چار تھانوں اور تین کنٹونمنٹ بورڈ وارڈوں کے سنگھم پر پشاور روڈ کا متبادل مصروف رینج روڈ ٹریفک جام کا جنجال پورہ‘ چودہ سو دکانوں‘ کاروباری دفاتر‘ تعلیمی اداروں شادی ہالز سمیت ایک لاکھ کی ملحقہ آبادی سٹریٹ کرائمز‘ سوئی گیس کے لوپریشر‘ پانی کی شدید قلت‘ صفائی کے ناقص انتظامات کی آماجگاہ ہے اور تاجر برادری کنٹونمنٹ بورڈ کے ارباب بست و کشاد بالخصوص عملہ صفائی کی عدم توجہی اور ٹریفک وارڈنز کی چیرہ دستیوں پر سخت شاکی ہیں۔ انجمن تاجران رینج روڈ کے صدر محمد عابد بٹ‘ جنرل سیکرٹری طاہر محمود‘ فرید عباسی‘ نعمان قریشی‘ جمیل قریشی‘ سردار عثمان‘ ایم ایس ایف (ن) کے چیئرمین سردار یعقوب سلطان‘ چوہدری لطیف گجر‘ یوتھ نگ کے ملک اخلاق‘ تاجروں واجد عباسی‘ راجہ وقاص‘ تصدق شاہ‘ ظہیر شاہ‘ راجہ ابرار‘ محمد ایوب‘ حاجی سردار محمود احمد‘ چوہدری محمد شریف‘ سردار وقاص‘ ظہیر مغل‘ ظفر سلطان خٹک نے منگل کے روز رینج روڈ پر منعقدہ نوائے وقت موبائل فورم میں شہری مسائل کا دفتر کھول دیا اور کہا کہ کنٹونمنٹ بورڈ ٹیکس تو لیتا ہے لیکن شہری مسائل پر توجہ نہیں دیتا۔ کوڑا کرکٹ کے لئے کنٹینرز تو رکھے گئے ہیں لیکن کوڑا کرکٹ اور کچرے کے ڈھیر روزانہ کی بنیاد پر نہیں اٹھواتا‘ سڑک پر مین ہول بنا کر نالیوں کی صفائی کر کے ان پر پختہ ’’چھت‘‘ ڈال کر اور کھمبے نکال کر کشادگی اور ٹریفک میں حائل بڑی رکاوٹ دور کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ ٹریفک جام آئے روز کا معمول بن چکا ہے شادی ہالز کے باہر تقاریب کے موقع پر اپنی پارکنگ استعمال کرنے کی بجائے رینج روڈ پر گاڑیاں کھڑی کر دی جاتی ہیں‘ ٹریفک جام کی وجہ سے مریضوں کو ہسپتال لے جانے میں سخت مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ ٹریفک وارڈنز اپنی مرضی سے چکر لگاتے اور ٹرالیوں اور واٹر ٹینکرز کے بھاری چالان کر کے چلے جاتے ہیں۔ رینج روڈ سے ملحقہ مصریال روڈ چوک‘ حبیب بنک اور الائیڈ بنک کے سامنے ٹریفک وارڈنز کی مستقل تعیناتی ضروری ہے رینج روڈ کا علاقہ چار تھانوں ریس کورس‘ ویسٹریج‘ آر اے بازار‘ نصیر آباد کے ساتھ یہاں کے مختلف علاقے شامل ہیں مگر سٹریٹ کرائمز معمول بن چکا ہے آئے روز پرس‘ موبائل‘ موٹر سائیکل چھیننے اور ڈکیتی کی وارداتیں ہوتی ہیں پولیس کے موثر گشت کا انتظام نہیں ہے ڈینگی کا سپرے 2013ء میں کیاگیا تھا اس کے بعد نہیں ہوا۔ خان پور ڈیم کی لائن سے ایک دن کے بعد نصف گھنٹے کے لئے پانی آتا ہے لوگ واٹر ٹینکرز سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں جبکہ ٹریفک وارڈنز واٹر ٹینکرز کو ناجائز تنگ کرتے ہیں ہم نے بارہا کہا کہ ٹرالیوں اور واٹر ٹینکرز کے لئے سکول ٹائم سے ہٹ کر ٹائم ٹیبل مقرر کردیا جائے مگر ایسا نہیں کیاگیا۔ رینج روڈ کے تاجروں کو واٹر کنکشن دیئے جائیں یا پبلک اسٹینڈ قائم کر کے فلٹریشن پلانٹ لگائے جائیں‘ ٹریفک حادثات کی روک تھام کے لئے شام ویلی چوک اور دیگر پوائنٹس پر سپیڈ بریکر بنائے جائیں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے لئے صبح اور شام کے اوقات میں گاڑیاں بھجوائی جائیں۔ گزشتہ ایک ماہ سے گیس کا پریشر کم ہو گیا ہے اصلاح احوال کی جائے‘ سٹریٹ لائٹس کو درست کیا جائے۔