ملٹری کورٹس نے دہشت گردوں کوانجام تک پہنچانے میں اہم کردار اداکیا، میاں مقصود احمد

راولپنڈی (نوائے وقت رپورٹ)امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت بڑھانے کے حوالے سے حکومت کی جانب سے مشاورت کا اعلان ناقابل فہم ہے بلاشبہ ملٹری کورٹس نے دہشت گردوں کوانجام تک پہنچانے میں اہم کردار اداکیا مگر ان کومستقل یامدت میں توسیع دینادرحقیقت دوسرے عدالتی نظام کی کریڈبیلٹی کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے الحمدللہ پاکستان میںادارے مضبوط ہورہے ہیںضرورت اس امر کی ہے کہ فوجی عدالتوں کو مستقل کرنے کی بجائے اصلاحات کرکے سویلین عدالتی نظام کو مضبوط کیا جائے۔ملکی حالات کو معمول پر لانے کیلئے اس قسم کے اقدامات سے اجتناب کیاجانا چاہئیان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزلاہور میںمختلف عوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں نے کہاکہ آئین اور آرمی ایکٹ میں ترمیم کرکے فوجی عدالتوں کو دوسال کی مدت کیلئے 6جنوری2015میں قائم کیا گیا تھا۔یہ متوازی عدالتی نظام ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیںپاکستان بھر میں اس وقت 11فوجی عدالتیں قائم ہیںخصوصی عدالتیں غیر معمولی حالات میں قائم کی جاتیں ایک ہفتے کے دوران چار سوشل میڈیا ماہرین کااغواء انتہائی قابل مذمت ہے۔حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑاسوالیہ نشان ہے ماوراآئین وقانون اقدامات سے پوری قوم میں عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے چاروں لاپتہ ہونے والے افراد کو جلدازجلد بازیاب کروانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیاجائے یوں محسوس ہوتاہے کہ حکمران عوام کے جان ومال کی حفاظت کرنے میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیںمیاں مقصوداحمد نے مزیدکہاکہ تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہئے سیاسی عدم استحکام جمہوریت ،ملکی سلامتی اور بقا کیلئے سنگین خطرہ ہے ملک میں لاقانونیت کی انتہاء ہوچکی ہے یہ کیسانظام رائج ہے جس میں غریب افراد کو رشوت دینے پر مجبور اور سرمایہ دار،جاگیردارقرضے ہڑپ کرجائیں توکوئی پوچھنے والانہیں ہمارے تمام مسائل کاحل اسلامی شرعی نظام میں پنہاں ہے وقت کاتقاضا ہے کہ فرسودہ نظام سے چھٹکارہ حاصل کیاجائے۔