نیب ترمیمی آرڈیننس قائمہ کمیٹی کے سپرد سلمان حیدر پر حساس اداروں سے بات کی تفصیلا ت نہیں بتا سکتا نثار

نیب ترمیمی آرڈیننس قائمہ کمیٹی کے سپرد سلمان حیدر پر حساس اداروں سے بات کی تفصیلا ت نہیں بتا سکتا نثار

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے نیب ترمیمی آرڈیننس سینٹ میں پیش کیا۔ اعتزاز احسن نے کہا نیب ترمیمی آرڈیننس 7 تاریخ کو جاری ہوا۔ پانچ جنوری کو سینٹ کا اجلاس طلب کر لیا گیا تھا۔ آرڈیننس کو بل کے طور پر پیش کیا جانا چاہئے تھا، تاحیات پابندی نہیں لگائی جا سکتی۔ زاہد حامد نے کہا پلی بارگین اور رضاکارانہ واپسی کا معاملہ سینٹ میں اٹھایا گیا تھا۔ نیب ترمیمی آرڈیننس 2017ءقائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ وزیر داخلہ چودھری نثار نے سینٹ میں اپنے بیان میں کہا ہے ایوان کو نیشنل ایکشن پلان اور سکیورٹی پر 4 بریفنگ دیں۔ میں نے ہر کسی کو کھلا بولنے کا موقع دیا۔ کاش ہم میں اخلاقی جرات ہو کہ بات تب کریں جب سامنے ہوں۔ ہم باخبر اور قانون ساز اداروں کے ممبر ہیں، جانتے ہیں وفاق اور صوبے کا دائرہ کیا ہے۔ کاش سیاسی پوائنٹ سکورنگ کرنے والے صوبے کے دائرہ کار کا تعین کر لیں۔ وفاق، صوبے کے دائرہ کار کے حقائق مسخ کرنا کسی معزز رکن کے شایان شان نہیں۔ میں نے کبھی سیاسی پوائنٹ سکورنگ نہیں کی۔ ایوان میں بات کی جائے تو حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ ایک رپورٹ آئی جس کا میں نے کہا سپریم کورٹ میں جواب دوں گا۔ رپورٹ کو چیف جسٹس نے دیکھا۔ میں نے کہا کہ مجھے سنے بغیر فیصلہ ہو گیا۔ میں نے کہا کہ مجھ سے کوئٹہ سے متعلق سوال نہیں کئے گئے۔ میں نے ساڑھے 3 سال میں انسداد دہشت گردی کے 142 اجلاس کئے۔ ان 3 سالوں میں 44 ہائی سکیورٹی اجلاس وزیراعظم ہاﺅس میں ہوئے۔ صرف ملٹری آپریشن سے داخلی سکیورٹی قائم نہیں ہوتی۔ سوات اور جنوبی وزیرستان آپریشن کا شدید ردعمل آیا۔ سب کی مشترکہ کاوشوں سے یہ بہت بڑا مسئلہ حل ہوا ہے۔ میرے پاس تو دفاع پاکستان کونسل کے ارکان آئے تھے۔ اپریل 2014ءمیں ہونے والے اجلاس میں 4 افراد تھے۔ پچھلے دور میں تو کالعدم تنظیمیں ایوان صدر آئیں۔ ان کے ساتھ بیٹھے۔ میرے پاس تو ان کی تصاویر بھی ہیں۔ کالعدم تنظیمیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ فرقہ وارانہ تنظیموں کو دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ نہیں کھڑا کیا جا سکتا۔ اپوزیشن نے چودھری نثار کے بیان کیخلاف سینٹ اجلاس سے واک آﺅٹ کیا۔ چودھری نثار نے کہا کہ میری کارکردگی کا موازنہ پچھلی حکومتوں سے کرائیں۔ حکومت سندھ کے ساتھ میرا اچھا ورکنگ تعلق ہے، ہمیں ایک دوسرے کے بارے میں تحفظات ہو سکتے ہیں، کچھ باتیں کہیں، کچھ سپریم کورٹ میں رکھوں گا۔ میں سریم کورٹ میں اپنا مو¿قف اور کارکردگی رکھوں گا۔ میں نے کونسی تضحیک کی، کیا میرا آئینی حق نہیں، میں ریکارڈ لایا ہوں جو چاہے دیکھ لے۔ ایوان صدر سے 2012ءمیں بیان آیا۔ ایوان میں بات کی جائے تو حقائق کو سامنے رکھا جائے۔ سال 2015ءکے بعد دہشت گردی کے واقعات گزشتہ سال سب سے کم ہوئے۔ اس سال پہلی مرتبہ دہشت گرد واقعات ہزار سے کم آئے۔ قائم علی شاہ پر الزامات کی بھرمار ہوئی تو میں نے ان کے حق میں بیان دیا۔ پچھلے دور کے 5 سال کا ریکارڈ نکالا ہے کہ سکیورٹی پر 9 اجلاس ہوئے۔ اس سے قبل دور میں کوئی اجلاس نہیں ہوا۔ چار افراد کی گمشدگی کے معاملے پر وزیرداخلہ نے کہا کہ جو لوگ اغوا ہوئے‘ ان میں سے ایک کا تعلق اسلام آباد اور 3 کا پنجاب سے ہے۔ پنجاب حکومت سے رابطے میں ہیں۔ معلومات لے رہے ہیں۔ پنجاب میں 2 افراد اکٹھے اغوا ہوئے۔ کورال چوک سے چند کلومیٹر آگے متعلقہ شخص کی گاڑی کو سائڈ پر روکا گیا۔ انہیں روڈ سے الگ لے جایا گیا۔ یہ واقعہ رات 8 بجکر 20 منٹ کا ہے۔ چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ اچھے نوٹ پر بات ختم ہو تو اچھا ہے۔ آپ 4 افراد کے اغوا پر بات جاری رکھیں۔ چودھری اعتزاز احسن نے کہاکہ وزیرداخلہ نے 4 افراد کے بارے میں نہیں بتایا۔ جو اصل بات ہے اس پر ہم تشنہ ہیں۔ دہشت گردی میں کمی کا کریڈٹ فوجی قیادت کو جاتا ہے۔ ضرب عضب شروع ہوا تو سویلین قیادت لاعلم تھی۔ چودھری نثار نے کہا سلمان حیدر کے معاملے پر حساس اداروں سے بات کی ہے۔ جلد گھر واپس آنے کی امید ہے۔ ایک مغوی کے گھر سے سویلین ٹوپیاں پہنے دو افراد لیپ ٹاپ لے گئے۔ لوگوں کو لاپتہ کرنا حکومتی پالیسی نہیں۔ ایوان کو یقین دلاتا ہوں ان واقعات کے پیچھے جو بھی ہے‘ اس کا پیچھا کریں گے۔ کچھ شواہد ایسے ہیں جو ابھی ایوان کو نہیں بتا سکتا۔ ایوان کو یقین دلاتا ہوں کہ ان واقعات کے پیچھے جو بھی ہے‘ اس کا پیچھا کریں گے کہ کچھ شواہد ایسے ہیں کہ ابھی ایوان کو آگاہ نہیں کر سکتا۔ سویلین ٹوپیاں پہنے دو افراد گھر آ کر اہل خانہ سے لیپ ٹاپ لے گئے۔ دس منٹ بعد گاڑی راولپنڈی کی طرف جاتی دیکھی گئی۔ سیف سٹی پراجیکٹ کے معاملے کو دیکھا ہے۔ پراجیکٹ کو کچھ حد تک مری روڈ اور کورال چوک تک بڑھایا۔ تحقیقات میں دیکھا ہے سلمان حیدر کی گاڑی کو ایک گاڑی فالو کر رہی تھی۔ وہ اس فالو کرنے والی گاڑی میں غائب ہوئے۔ ہم انٹیلی جنس والوں سے بات کر رہے ہیں۔ کوشش کر رہے ہیں پروفیسر واپس گھر آسکیں۔
ترمیمی آرڈیننس