کسی کو غیر قانونی طور پر زیرحراست نہیں رکھا جا سکتا: سپریم کورٹ

کسی کو غیر قانونی طور پر  زیرحراست نہیں رکھا جا سکتا: سپریم کورٹ

اسلام آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے 11 قیدیوں میں سے ہلاک شدہ چار قیدیوں کے اہل خانہ کو زرتلافی جبکہ 7 قیدیوں کو قانون کے مطابق عدالتوں میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی کو غیر قانونی طور پر حراست میں نہیں رکھا جا سکتا جبکہ لاپتہ قیدیوں کے وکیل طارق اسد نے نظرثانی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا ہے کہ قیدیوں کو زندگی کی تمام ضروری اشیاء فراہم کی جائیں علاج معالجے اور بہتر خوراک کی سہولت دینے کی بھی ہدایت کی ہے  درخواست گزار نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے لکھے گئے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کریں گے کیونکہ انہوں نے اپنی درخواست میں جو استدعا کی تھی اس کے مطابق فیصلہ نہیں کیا گیا قیدیوں کی حراست آرمی ایکٹ کے تحت نہیں تھی اور انہیں بیس ماہ تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا۔