ٹیلیفون پر لمبی چھٹی دینا آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے: آئی جی ایف سی کی عدم پیشی پر چیف جسٹس کے ریمارکس

ٹیلیفون پر لمبی چھٹی دینا آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے: آئی جی ایف سی کی عدم پیشی پر  چیف جسٹس کے ریمارکس

اسلام آباد (این این آئی+ نمائندہ نوائے وقت) گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے آئی جی ایف سی توہین عدالت کیس میں آئی جی میجر جنرل اعجاز شاہد کا طبی اور چھٹی کا ریکارڈ آج (بدھ) کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ گزشتہ روز چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی۔ عدالت نے کہاکہ 12 روز سے ایک افسر چھٹی پر ہے ایف سی اعلیٰ افسر کے بغیر کیسے کام کررہی ہے، قانون کا مذاق اڑایا جارہا ہے، ٹیلی فون پر لمبی چھٹی دینا آئین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عدالت نے ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سے پوچھاکہ اس وقت ایف سی کی کمان کون کررہا ہے، چھٹی کا ریکارڈ ساتھ نہ لانے پر ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ کی سرزنش بھی کی گئی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے بتایا گیا کہ میجر جنرل اعجاز کی رخصت کی درخواست موصول نہیں ہوئی، بریگیڈیر خالد سلیم قائم مقام آئی جی کے فرائض ادا کر رہے ہیں، سپریم کورٹ نے توہین عدالت کیس کی سماعت (آج) بدھ تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی میجر جنرل اعجاز شاہد کا طبی اور چھٹی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کے پاس بہت وقت ہو گا لیکن جن لوگوں کے پیارے لاپتہ ہیں ان پر ایک ایک دن بھاری ہے، کسی کی بے بسی کا مذاق نہ اڑایا جائے، بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ بہت سنگین ہے، ایف سی پر الزامات لگائے جا رہے ہیں لیکن کوئی افسر بیان قلمبند نہیں کرا رہا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان سے استفسار کیا کہ اگر آئی جی ایف سی بیمار ہیں تو ان کی جگہ کس کو تعینات کیا  گیا ہے۔ اس فورس میں نوٹیفکیشن لازمی ہوتا ہے۔ یہ نہیں ہوتا کہ کوئی خود کہہ دے کہ میں آئی جی ہوں۔ آئی جی ایف سی کی جانب سے چھٹی کی درخواست بھی نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ گھر میں کوئی بچہ بھی بیمار ہو جائے تو کتنی پریشانی ہوتی ہے لیکن بلوچستان میں 50 سے زائد افراد لاپتہ ہیں جن کا سراغ نہیں لگایا جا رہا۔ اگر ملک میں قانون کی حکمرانی ہے تو ذمہ دار لوگوں کو معطل کر کے نوٹیفکیشن عدالت میں پیش کریں۔ کوئی ناگزیر نہیں، قبرستان ایسے لوگوں سے بھرے پڑے ہیں جو کہتے تھے کہ ان کے بغیر نظام نہیں چلتا۔ دس منٹ میں پالیسی بیان دیں اور سیکرٹری کو حالات سے آگاہ کریں کہ وہ نتائج کیلئے تیار رہیں۔ سارے نوٹیفکیشن مکمل کر کے لائیں اور بتائیں کہ بندے کہاں ہیں۔