وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت درخواست خارج، شہبازشریف کے خلاف دوبارہ دائر کرنے کا حکم

وزیراعظم کے خلاف توہین عدالت درخواست خارج، شہبازشریف کے خلاف دوبارہ دائر کرنے کا حکم

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ بیس کے افسر کی قواعد کے برخلاف تقرری وتبادلوں سے متعلق کیس میں وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے خلاف توہین عدالت کی درخواست میں ترمیم کر کے ایک ہفتے تک دوبارہ دائر کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست، درخواست گزار کے متاثرہ فریق نہ ہونے کی بنا پر خارج کر دی۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں جسٹس اطہر سعید اور جسٹس عمر عطا بندیال پر مشتمل تین رکنی بنچ نے پنجاب ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں انیتا تراب فیصلے کے خلاف تقرریوں وتبادلوں سے متعلق محمد شہباز شریف کے خلاف بلال احمد کی جانب سے توہین عدالت کی دائر درخواست کی سماعت کی۔ درخواست گزار کے وکیل بتایا کہ 5 اپریل 2012 کو پبلک انٹرکشن ڈیپارٹمنٹ میں گریڈ بیس میں بطور ڈائریکٹر تعیناتی 1987ء رولز کی خلاف ورزی کی گئی جوکہ انیتا تراب کیس کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست گزار کا مزید کہنا تھا کہ سید ممتاز شاہ نامی شخص کو ڈائریکٹر تعینات کیا گیا جبکہ بلال احمد کو ایڈیشنل ڈائریکٹر تعینات کیا گیا ہے۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ڈائریکٹر کو فریق بنا لیں۔ بعدازاں عدالت نے درخواست میں ترمیم کر کے دوبارہ دائر کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے سماعت ایک ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔ ادھر وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف دائر درخواست کی سماعت ہوئی تو ملتان کے رہائشی محمد فہیم اختر گل عدالت کو بتایا کہ میرٹ کے خلاف سیاسی پریشر کے تحت تعیناتی کی جا رہی ہیں۔ ملتان کے ایک ایکس سی این کی تقرری غیرقانونی طور پر کی گئی یہ سراسر انیتا تراب فیصلے کی خلاف ورزی ہے۔ عدالت اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کرے اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ دائر درخواست مفاد عامہ کے تحت ہے لیکن اگر درخواست گزار سرکاری ملازم ہوتا ہم اسے سن سکتے تھے۔ ایک عام شہری کا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ بعدازاں عدالت نے درخواست خارج کر دی۔