مرکزی ملزم کو48 گھنٹے میں واپس لانے کا حکم، اسلامی جمہوریہ پاکستان میں تو حاجیوں کو لوٹنا چھوڑ دیں: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے حج کرپشن سکینڈل کیس کے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد کے حوالے سے مقدمہ میں سعودی عرب میں گرفتار سکینڈل کے مرکزی ملزم احمد فیض کو جلد از جلد وطن واپس لانے کی ہدایت کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ایک ملزم کو پکڑنے میں چار سال کا عرصہ لگ گیا۔ عدالت کو بتایا جائے کہ اس تاخیر کی ذمہ دار ایف آئی اے ہے، وزارت داخلہ یا دفتر خارجہ، ملزم ہمارے دوست ملک کے پاس تھا، خدانخواستہ ہمارے دشمن ملک کے پاس ہوتا تو ہم کیا کرتے، عدالت سے بہت مذاق ہو گیا، اب صرف کوششیں کرنے کی بات نہیں چلے گی۔ اٹارنی جنرل سلیمان اسلم بٹ نے رپورٹ پیش کی اور عدالت کو بتایا کہ سکینڈل کے مرکزی ملزم احمد فیض کو سعودی عرب میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جسٹس جواد نے کہا کہ 2010ء سے یہ کیس چل رہا ہے جس کی ایف آئی آر 2011ء میں درج کر لی گئی تھی، ہم بار بار کہتے رہے کہ ملزم احمد فیض سعودی عرب میں کہیں چھپا ہوا ہے، ایف آئی اے کب سے تحقیقات کر رہی ہے پھر ملزم کو وطن واپس لانے میں اتنی تاخیر کیوں کی گئی ہے۔ عدالت کو دفتر خارجہ کے نمائندے ڈاکٹر رضوان نے بتایا کہ دفتر خارجہ سے متعلقہ سعودی حکام سے رابطہ کر لیا ہے کہ ملزم کو کس قانون کے تحت پاکستان واپس لایا جا سکتا ہے جس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ یہ کیا بات ہے سعودی عرب میں تو کو فرد گرفتار ہوتا ہے اسے اسی وقت جہاز پر بٹھا کر ڈی پورٹ کیا جاتا ہے لیکن ڈیپورٹ اور واپس لانا الگ الگ معاملات ہیں۔ عدالت کو بتایا جائے کہ احمد فیض کب تک واپس لایا جائیگا یا بتا دیں کہ آپ بے بس ہیں اور یہ کام نہیں کر سکتے۔ دفتر خارجہ ہم نے نہیں آپ لوگوں نے چلانا ہے ہمیں تو یہ بتایا جاتا ہے کہ ہمارا برادر ملک بہت تعاون کر رہا ہے، اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ احمد فیض کو آئندہ پیر تک واپس لا کر عدالت میں پیش کر دیا جائے۔ آئی این پی کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا سعودی عرب کا مجرموں کو ڈیپورٹ کرنے کا عمل بہت تیز ہے۔ عدالت کو بتایا جائے کہ مارچ 2013ء سے اب تک کتنے پاکستانیوں کو سعودی عرب سے ڈی پورٹ کیا جاچکا ہے‘ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں حاجیوں کو تو لوٹنا چھوڑ دیں‘ حج کرپشن کیس کے مرکزی ملزم کو پکڑنے میں 4 سال لگے اب اسے 48 گھنٹے میں پیش کیا جائے۔