سپریم کورٹ : بیورو کریٹ میاں بیوی کو اطلاع دئیے بغیر ریٹائر کرنے پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن طلب

اسلام  آباد (آن لائن) سپریم کورٹ نے میاں بیوی  بیورو کریٹس   کو او ایس ڈی  بنانے اور بعد  ازاں  بتائے بغیر  ملازمت سے  ریٹائر کئے جانے  کی اطلاع نہ دینے پر سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ  ڈویژن کو 21 جولائی کو ذاتی  طور پر طلب  کیا ہے  اور  ان کو جامع جواب  جمع کرانے کی بھی ہدایت کی ہے۔  عدالت نے کہا ہے کہ  اسٹیبلشمنٹ  ڈویژن بتائے  پچھلے عرصے  میں جن لوگوںکو  بغیر بتائے  ریٹائر کیا گیا ان کے کتنے  آرڈرز  جاری ہوئے اوراعلیٰ اختیاراتی  تعیناتی  بورڈ کے فیصلے  سے مذکورہ  افسران کو  آگاہی  نہ دینے کی  آئینی و قانونی  پروویژن  کیا  ہیں؟۔ جبکہ  جسٹس جواد ایس خواجہ نے  ریمارکس دیتے ہوئے  کہا کہ  ہمیں تو یہی بتایا گیا کہ اگر آپ کو اہم معلومات درکار ہوں تو اس کے لیے آپ کو اپنے ڈرائیور  اور نائب قاصد سے  اچھے تعلقات  رکھنا ہوں گے، یہ کیسا انصاف ہے  کہ جن سول ملازمین نے اپنی جوانی کے 35سال سرکار کو دے دیئے وہ سرکار ان کو بتائے بغیر   نوکری سے ریٹائر کردے،  کمال ہے   اس طرح کے معاملات  کی خبر میڈیا  کو تو دے دی جاتی ہے  متعلقہ لوگوں  کو کیوں نہیں  دی جاتی، آرٹیکل 19اے  کی افادیت  بارے بھی ڈپٹی اٹارنی جنرل  عدالت کو  آگاہی دیں  ۔ انہوں نے یہ ریمارکس  بدھ کے روز دیئے۔ دوران سماعت  حسن وسیم   افضل اور ان کی اہلیہ فرخندہ   وسیم افضل  نے عدالت کو بتایا کہ   انہیں سرکار نے  پہلے او ایس ڈی  بنایا پھر بغیر  اطلاع دیئے  ریٹائر کردیا  یہ کتنا  ظلم ہے   کہ انہوں نے 35 سال کا عرصہ   اس ملک کو دیا  او بدلے میں انہیں یہ صلہ دیا گیا ۔ عدالت کے پوچھنے   پر ڈپٹی اٹارنی جنرل  نے بتایا کہ  ہائی پاور تعیناتی  بورڈ کے فیصلے  قانون کی رو سے  کسی کو بتانے  اور آگاہ  کرنا ضروری نہیں  اس لئے انہیں بھی نہیں بتایا گیا ۔ اس پر عدالت نے  کہا کہ پھر میڈیا  کو کیسے پتہ چل گیا  سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ   وضاحت  کریں۔ عدالت نے  مزید سماعت  اکیس جولائی  تک ملتوی کرتے ہوئے  سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن   سے  جواب طلب کرلیا۔