حکومت مخالف اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے: فضل الرحمن کی نوازشریف کو یقین دہانی، خورشید شاہ سے ملاقات

اسلام آباد (آن لائن+ ثناء نیوز) جمعیت علمائے  اسلام (ف) کے سربراہ  مولانا فضل الرحمن نے  وزیراعظم  نوازشریف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ  وہ اور ان کی جماعت کسی  حکومت مخالف  اتحاد کا حصہ نہیں  بنیں گے  اور نہ ہی جمہوریت  کو ڈی ریل ہونے دیا جائے گا جبکہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ ملک اس وقت  کسی نااتفاقی کا متحمل نہیں  ہوسکتا تمام سیاسی جماعتوں کو دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کی کامیابی اور بے گھر افراد کی امداد کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔ فضل الرحمن نے یہ یقین دہانی  گزشتہ روز وزیراعظم  سے ملاقات کے دوران کرائی۔ دونوں رہنمائوں نے  ملکی سکیورٹی صورتحال  اور سیاسی معاملات  پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیراعظم نوازشریف کا اس دوران کہنا تھا کہ  حکومت نے عوام کی فلاح وبہبود  کے لئے کئی اہم منصوبے  شروع کئے ہیں  جن کی تکمیل کے بعد  ملک سے بے روزگاری اور دیگر مسائل کے خاتمے میں مدد ملے گی،  حکومت فوج کے شانہ بشانہ  شمالی وزیرستان  آپریشن میں مصروف ہے  اس وقت سب سے بڑا مسئلہ  آئی ڈی پیز  ہیں کہ جن  کو جہاں مالی مدد دی جارہی ہے  وہاں  ان  کے دیگر مسائل  کو بھی حل  کرنے کے لئے ہر طرح کی کوشش کی جا رہی ہے، ملک اس وقت  کسی نااتفاقی  کا متحمل نہیں  ہوسکتا، تمام سیاسی جماعتیں  دہشتگردی کیخلاف جنگ میں متحد ہوکر ملک سے وفاداری   نبھائیں، اس دوران مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم  سے کہا کہ  وہ حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں  اور کسی غیر جمہوری  اتحاد کا حصہ نہیں بنیں گے۔ علاوہ ازیں خورشید شاہ اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے درمیان ملاقات میں ملک کے مخصوص سیاسی حالات کے پیش نظر  تمام سیاسی وجمہوری قوتوں کے اکٹھے ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے اور اس ضمن میں اپنی اپنی سطح پر کوششیں کی جائیں گی۔ قائد حزب اختلاف نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ حکومت  کو اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرنی چاہئے۔ جمہوری سیٹ اپ کو کمزور  نہیں ہونا چاہئے۔ اس سے  براہ راست پارلیمنٹ متاثر ہو گا۔ خورشید شاہ نے مولانا فضل الرحمن سے اسلام آباد میں وزراء  کالونی میں ان کی اقامت گاہ پر ملاقات کی۔ ’’ثناء نیوز‘‘ کے ذرائع کے مطابق دونوں رہنمائوں نے اس امر پر اتفاق کیا ہے کہ موجودہ جمہوری انتظام کو کمزور کرنے کی ممکنہ کوششوں کو سیاسی و جمہوری قوتیں مل کر ناکام بنا دیں گی۔ کسی کو ملک کے مستقبل سے کھیلنے اور سیاسی و پارلیمانی نظام کو نقصان پہنچانے نہیں دیں گے، ملک میں سیاسی استحکام کے لئے تمام اہم اور چیدہ چیدہ سیاسی جماعتوں کے اکٹھے ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے اس ضمن میں سید خورشید شاہ اور مولانا فضل الرحمن  دونوں اپنے اثرورسوخ کو استعمال کریں گے۔ دریں اثناء قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری پر مولانا فضل الرحمن کو اعتماد میں لینے کی تردید کی ہے۔ خورشید شاہ نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کو اسمبلیوں کی مدت کے معاملے پر بھی اعتماد میں نہیں لیا۔ مولانا فضل الرحمن حکومت کے اتحادی ہیں اعتماد میں کیوں لوں گا؟۔دریں اثناء خورشید شاہ نے نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات کیلئے کمیٹی بنائی جائے گی۔ کچھ لوگ اقتدار میں آنے کیلئے سازشیں کرتے رہتے ہیں، تجربے کو سامنے رکھتے ہوئے پارلیمنٹ کی مدت 4سال تک رکھنے کی تجویز دی۔ نوازشریف اور عمران خان کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے، بڑا افسوس ہے کہ انتقامی سیاست کی جا رہی ہے۔ موجودہ دور میں چھوٹی سی بات انتشار کی طرف لے جاتی ہے۔ جمہوریت کیلئے ضروری ہے کہ آپس میں مل بیٹھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔