طالبان کیساتھ مذاکرات پیچیدہ مسئلہ ہے، کوئی اندرونی، بیرونی دبائو نہیں: سرتاج عزیز

طالبان کیساتھ مذاکرات پیچیدہ مسئلہ ہے، کوئی اندرونی، بیرونی دبائو نہیں: سرتاج عزیز

 اسلام آباد (اے این این) خارجہ امور اور قومی سلامتی کے بارے میں وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے طالبان  کیساتھ مذاکرات کے معاملے پر کوئی اندروی  یا بیرونی دبائو نہیں، دہشت گردی کا مسئلہ حل کرنے کیلئے طویل المدتی حکمت عملی کی ضرورت ہے، امریکہ اور افغانستان کے درمیان مجوزہ  سکیورٹی معاہدے سے ہمارا کوئی تعلق  ہے نہ  افغانستان میں پاکستان کا کوئی پسندیدہ۔ برادر پڑوسی ملک میں پرامن صدارتی الیکشن کیلئے بھرپور تعاون   کرینگے، پاک چین اقتصادی راہداری  کے منصوبے سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔ اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے  انہوں نے کہا طالبان کے ساتھ مذاکرات ایک پیچیدہ مسئلہ ہے، ماضی میں بھی طالبان نے کئی معاہدوں کی پاسداری نہیں کی، انہوں نے کہا پرامن  اور مستحکم افغانستان نہ صرف افغان عوام بلکہ پاکستان اور چین سمیت پورے خطے کے مفاد میں ہے  نیٹو انخلاء کے بعد افغانستان کی ترقی کیلئے چین کا بھی اہم کردار ہوگا اور دیگر پڑوسی ممالک کا بھی اہم کردار ہو گا۔ انہوں نے کہا افغانستان میں عدم استحکام کے اثرات براہ راست پاکستان پر پڑتے ہیں، ہم افغانستان میں افغان عوام کے قیادت  اور شراکت داری پر مشتمل مفاہمتی عمل کی حمایت کرتے ہیں، پاکستان نے افغان صدر اور اعلیٰ امن کونسل کی درخواست پر متعدد اقدامات اٹھائے ہیں اور کئی افغان قیدیوں کو بھی رہا کیا گیا ہے۔ گزشتہ 7 ماہ میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔