کسی رکن پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کی مخالفت نہیں کی: دفتر خارجہ

کسی رکن پارلیمنٹ نے سعودی عرب کے دفاع کی مخالفت نہیں کی: دفتر خارجہ

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر+ نوائے وقت نیوز) پاکستان نے حوثی باغیوں کے ہاتھوں یمن کی آئینی حکومت کو برطرف کئے جانے کے عمل کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلے کی روشنی میں یمن بحران کے بارے میں پالیسی بنائی جائیگی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان میں مکمل اتفاق رائے ہے کہ سعودی عرب میں مقاماتِ مقدسہ کو کوئی خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں پاکستان انکا دفاع کرنیوالا پہلا ملک ہوگا۔ سعودی عرب، ہمارا برادر ملک ہے جس کی جغرافیائی سالمیت یا خودمختاری کو خطرہ ہونے کی صورت میں پاکستان کی طرف سے سخت ردعمل آئے گا۔ نریندر مودی کی جانب سے بھارتی شہریوں کے یمن سے انخلا میں مدد دینے پر شکریہ ادا کرنے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں ترجمان نے بتایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ نتیجہ خیز اور بامقصد اور مذاکرات کا خواہاں ہے تاکہ کشمیر سمیت تمام دو طرفہ مسائل کو پرامن طور پر حل کیا جا سکے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں سعودی عرب کیخلاف کوئی بات نہیں کی گئی۔ کسی رکن نے سعودی عرب کے دفاع کی مخالفت نہیں کی۔ ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات میں باور کرایا گیا کہ پاکستان غیرریاستی عناصر کے ہاتھوں یمن کی دستوری حکومت کے خاتمے کی مذمت کرتا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یمن سے بیشتر پاکستانی واپس آچکے ہیں۔ ایران کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان یمن بحران سے پہلے ہی طے ہو چکا تھا جبکہ سعودی وزیر مذہبی امور کا دورہ پاکستان بھی معمول کا دورہ ہے۔ تسنیم اسلم نے کہا ہے کہ امریکہ نے فلاحی تنظیم الفرقان فائونڈیشن پر پابندی لگا دی۔ پاکستان یمن جنگ کا حصہ نہیں۔ چین کے صدر اسی ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔ امریکہ کے ساتھ دفاعی تعلق ہمیشہ رہا ہے۔ امریکہ اور پاکستان میں اسلحہ خریدنے کا معاہدہ ہوا ہے۔ پاکستان اسلحہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں استعمال کریگا۔ پاکستان اور ایران یمن میں امن قائم کرنے کیلئے یمنی قبائل کو مذاکرات کیلئے قائل کرنے پر متفق ہیں، یمن  بحران کے خاتمے کیلئے پاکستان، سعودی عرب ترکی اورایران کے ساتھ رابطے ہیں، ایران کے ساتھ بارڈر سکیورٹی کے حوالے سے رابطے بہتر بنانے پر بھی اتفاق ہوا ہے۔