نیب نے صرف ریکوری کی، ملزموں کیخلاف کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی: جسٹس جواد

نیب نے صرف ریکوری کی، ملزموں کیخلاف کوئی خاص کارروائی نہیں ہوئی: جسٹس جواد

اسلام آباد(نمائندہ نوائے وقت )سپریم کورٹ نے نیب میں بے قاعدگیوں کے حوالے سے مقدمہ میں ادارے کی کارکردگی سے متعلق چیئرمین نیب کی رپورٹ مسترد کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ 15سال کی 25سو صفحات پر مشتمل رپورٹ کا جائزہ لینا عدالت کیلئے مشکل ہے عدالت کو دوبارہ 25صفحات کی رپورٹ بنا کردی پیش کی جائے، عدالت کا کہنا تھا کہ نیب میں مانیٹرنگ اور موازنے کا کوئی انتظام نہیں وہاں عدالتی احکامات پر بھی عملدرآمد نہیں ہورہا ، نیب ریکارڈ ثابت کررہا ہے کہ ادارے نے صر ف رقم کی ریکوری کی ہے ملزموں کے خلاف کوئی خاص اور سخت کارروائی نہیں کی گئی یہی وجہ ہے وائٹ کالر کرپشن میں اضافہ ہوا اور مفرور سرعام پھر رہے ہیں، ادارے کا کسی کو خوف نہیں، ایسی صورت میں بدعنوانی ختم کرنے کا ہدف حاصل نہیں ہوسکتا،چیئرمین نیب عدالت میں پیش ہوئے ، توجسٹس جواد ایس خواجہ نے ان سے کہا کہ عدالت کوان کی مصروفیت کااندازہ ہے لیکن عدالت نے جنوری میں ایک حکم جاری کیا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہوا، اس لئے عدالت چاہتی ہے کہ نیب کا اندرونی احتساب ہونا چاہیئے ،پراسیکیوٹر جنرل نے چیئرمین نیب کی جانب سے ادارے کی کارکردگی کے بارے میں تفصلی رپورٹ پیش کی جس کا جائزہ لینے کے بعد عدالت نے رپورٹ کومبہم قراردیااورکہاکہ قوم سمجھتی ہے کہ جب تک معاشرے سے بدعنوانی ختم نہیں ہوگی ملک ترقی نہیں کرسکتا اسلئے عدالت چاہتی ہے کہ اس حوالے سے حقیقت میں کچھ کرکے یہ دکھایا جائے کہ نیب واقعتًا اپناکرداراداکررہاہے جسٹس جواد ایس خواجہ نے پیش کی گئی رپورٹ کے متعلق کہاکہ اگر نیب کے پاس کوئی مانیٹرنگ کاکوئی ماہر ہوتا تو وہ ہمیں 25سوکی بجائے 25صفحات کی رپورٹ بناکردیتا جس میں ساری تفصیلات موجود ہوتیں ، جسٹس عظمت کا کہنا تھا کہ نیب صرف پیسے وصول کرتاہے بدعنوانی میں ملوث افراد کا ٹرائل نہیں کیا جاتا دوسری جانب ریفرنس دائر کرنے میں تاخیر جان بوجھ کر کی جاتی ہے تاکہ ملزم کو ناجائز فائدہ پہنچایا جاسکے ۔ جسٹس جواد کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ ملی بھگت سے ہوتا ہے جس کامقصد یا تو ملزم کو مجبور کر ناہوتاہے یاانہیں ناجائز فائدہ دینے کیلئے ریفرنس دائر کرنے میں تاخیر کی جاتی ہے جب نیب کے اندر مانیٹرنگ سسٹم ہوگا تو یہ خامیاں خود بخود دور ہوجائیں گی۔