سیلز ٹیکس میں 92 ارب کی بدعنوانیوں کا انکشاف، ذمہ دار چیئرمین ایف بی آر ہیں : آڈیٹر جنرل

اسلام آباد (آن لائن) نواز شریف حکومت کے پہلے سال میں سیلز ٹیکس کی وصولی میں 92 ارب روپے کی مالی بدعنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ایف بی آر میں کرپشن اور کرپٹ افسران کی وجہ سے سیلز ٹیکس میں 92 ارب روپے کی کرپشن کی نشاندہی آڈٹ رپورٹ میں کی گئی ہے۔ آڈیٹر جنرل نے یہ رپورٹ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں جمع کراتے ہوئے سفارش کی ہے کہ سیلز ٹیکس شعبہ میں 92 ارب کی کرپشن کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ ایف بی آر کے موجودہ چیئرمین طارق باجوہ کو قومی خزانہ کو 92 ارب کا نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مندرجات کے مطابق ایف بی آر نے 633 افراد کو سیلز ٹیکس کی مد میں 6 ارب 51 کروڑ کی ریٹرن غلط اور نہ جمع کرانے کی چھوٹ دے کر قومی جرم کیا ہے۔ ایف بی آر نے ٹیکس چوروں کو جرمانہ معاف کر کے 30 کروڑ کا نقصان پہنچایا ہے گورنمنٹ کو مختلف سامان فراہم کرنے والے افراد کو ٹیکس چھوٹ دے کر 1 کروڑ 71 لاکھ کا نقصان دیا گیا۔ ایف بی آر کے 6 فیلڈ افسران نے رجسٹرڈ افراد سے سیلز ٹیکس وصول نہ کر کے ایک ارب 44 کروڑ کی کرپشن کی ہے جبکہ غلط تخمینہ لگا کر 36 کروڑ کا نقصان قومی خزانہ کوہوا ہے۔ 63 افراد کو غلط ایڈجسٹمنٹ کر کے 5 ارب 63 کروڑ کی ٹیکس چوری کی گئی ہے۔ سیلز ٹیکس قانون کے تحت کمپنیو،ں افراد کو رجسٹرڈ نہ کر کے 2 ارب 44 کروڑ کا نقصان قومی خزانہ کو دیا گیا ہے۔ آڈیٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ حکومت نے من پسند افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے ایس آر اوز جاری کر کے 13 ارب 24 کروڑ کا نقصان قومی خزانہ کو پہنچایا۔ سیلز ٹیکس لاہور نے 3 کمپنیوں کو ایک ارب 20 کروڑ کی چھوٹ دے کر کرپشن کی ہے۔ گیس کمپنیوں سے 4 ارب 16 کروڑ سیلز ٹیکس کی مد میں وصول نہیں کئے گئے جبکہ سیلز ٹیکس کراچی نے شپ بریکر سے ایک ارب 26 کروڑ سیلز ٹیکس کی مد میں معاف کر دیئے ہیں۔ سیلز ٹیکس ریفنڈ میں 65 کروڑ کے گھپلے کی آڈٹ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایف بی آر مافیا نے 7 ارب 22 کروڑ کا سیلز ٹیکس ریفنڈ کر کے قومی خزانہ کو نقصان پہنچایا۔ جس کی ذمہ داری طارق باجوہ پر عائد کی گئی ہے۔