جوڈیشل کمشن نے پندرہ اپریل تک شکایات اور تجاویز طلب کر لیں ‘ سولہ سے کھلی عدالت میں روزانہ سماعت ہو گی

جوڈیشل کمشن نے پندرہ اپریل تک شکایات اور تجاویز طلب کر لیں ‘ سولہ سے کھلی عدالت میں روزانہ سماعت ہو گی

اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ+بی بی سی اردو) 2013ءکے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے قائم جوڈیشل کمشن نے سماعت کھلی عدالت میں کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ فیصلہ جوڈیشل کمشن کے پہلے اجلاس میں کیا گیا۔ جس کی صدارت چیف جسٹس ناصر الملک نے کی۔ چیف جسٹس ناصر الملک کے پرسنل سیکرٹری حامد علی کو سیکرٹری کمشن مقرر کیا گیا ہے۔جوڈیشل کمشن 16اپریل سے کھلی عدالت میں سماعت کرے گا۔ سماعت روزانہ کی بنیاد پر ہوگی کوئی بھی شخص 15 اپریل تک دھاندلی سے متعلق ثبوت جمع کرا سکتا ہے۔ سماعت عدالتی وقت گزرنے پر ایک بجے کے بعد ہوگی۔کمشن نے ہدایت کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں جنہوں نے 2013ءکے اندر انتخابات میں حصہ لیا تھا وہ عدالت میں تجاویز پیش کریں۔ انتخابی دھاندلی کے حوالے سے ان کے پاس کوئی شواہد موجود ہیں تو وہ ایک بیان کی صورت میں 15 اپریل تک پہنچا دیئے جائیں۔ کمشنکے اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ فریق بننے والے افراد کمشن کو اپنا پارٹی سرٹیفکیٹ جمع کرائیں۔ پارٹی سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی سے شواہد نہیں لئے جائیں گے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی نے انتخابی دھاندلی کے ثبوت جوڈیشل کمشن میں لے جانے کا فیصلہ کردیا۔سینٹ میں اپوزیشن لیڈر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ میرے حلقے میں حلقے میں 12 پولنگ بیگ میں سے ووٹوں کے بجائے ردی نکلی‘پہلے مرحلے میں جوڈیشل کمشن میں این اے 124 کے ثبوت لے کر جائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں پیپلز پارٹی بطور جماعت بھی تمام حلقوں میں دھاندلی کے ثبوت کمیشن میں لے جائیگی۔ این اے 124 سے شیخ روحیل اصغر کے وکیل نے بھی ردی نکلنے کی تصدیق کی ہے۔ دھاندلی کے حوالے سے وائٹ پیپر جوڈیشل کو پیش کروں گا۔