چیف الیکشن کمشنر بننے کا راستہ کھل گیا، رانا بھگوان داس نے خاموشی اختیار کرلی

اسلام آباد (ابرار سعید/ نیشن رپورٹ) جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس کی چیف الیکشن کمشنر تعیناتی میں رکاوٹ بننے والے فیڈرل پبلک سروس کمشن کے ایک آرڈیننس کی رکاوٹ تو مجوزہ ترمیم کے ذریعے ختم ہورہی ہے تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا آیا جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس موجودہ حالات میں اس عہدے کو قبول کرینگے یا نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ چیف الیکشن کمشنر کیلئے رانا بھگوان کا نام اپوزیشن رہنما خورشید شاہ نے دیا جسے وزیراعظم نے قبول کیا اور قومی اسمبلی میں ایف پی ایس سی کے چیئرمین کے چیف الیکشن کمشنر بننے کی پابندی کے آرڈیننس 1977ء میں حکومت اور اپوزیشن دونوں نے ملکر ترمیم کی تجویز دی لہٰذا اب سینٹ جہاں پی پی کی اکثریت ہے، میں بھی اس ترمیم کو منظور کرلیا جائیگا۔ قانون میں اس ترمیم پر رانا بھگوان داس نے اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور اس حوالے سے کوئی بھی تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔ انکو کی گئی متعدد فون کالز بھی وصول نہیںکی گئی۔واضح رہے کہ دسمبر 2012ء میں انکی ریٹائرمنٹ کے بعد خورشید شاہ کی جانب سے انہیں چیئرمین نیب بنانے کی تجویز دی گئی تھی تاہم اس وقت انہوں نے کسی شخصیت کو محور بناکر قانون میں کی جانیوالی ترمیم کی بنیاد پر یہ عہدہ قبول کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس مرتبہ دیکھنا ہوگا کہ قانون کی پاسداری اور اچھی شہرت رکھنے والے جسٹس ریٹائرڈ رانا بھگوان داس اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہیں یا نہیں۔