ہر شہری کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے‘ ججز یا اعلیٰ شخصیات جیسی سکیورٹی ملنی چاہئے: سپریم کورٹ

ہر شہری کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے‘ ججز یا اعلیٰ شخصیات جیسی سکیورٹی ملنی چاہئے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے ریڈ زو ن میں عدلیہ مخالف بینرزلگانے کے حوالے سے  مقدمہ کی سماعت 22  جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر پاکستانی شہری  کو سکیورٹی دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور ہر ایک کو ججز یا اعلیٰ شخصیات جیسی سکیورٹی ملنی چاہئے۔ آئی جی اسلام آباد کی جانب سے رپورٹ میں پیش کی گئی جس میں بتایاگیاتھا کہ بینرزلگانے کے حوالے سے غفلت کے مرتکب  تین پولیس اہلکاروں معطل اور تیس کو نوٹسز جاری کئے گئے  ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ  واقعہ کوایک ماہ چودہ دن ہو گئے ہیں اب تک  ہمیں معلوم ہونا چاہئے تھا کہ یہ کام کس نے  اورکس کے کہنے پرکیا ہے یہ بات سمجھ سے بالاترہے کہ  ریڈزون میں بینر کیسے لگ گئے،  یہاں توبہت  اہم اور حساس عمارتیں  ہیں، اس علاقے کی سکیورٹی سخت ہونی چاہئے اورایسی  ہی سیکورٹی پورے ملک میںہونی چاہئے  تاکہ عوام کو تحفظ کا احساس ہو۔ عدالت کے استفسارپرایس پی انویسٹی گیشن نے بتایا کہ اس کیس پر کام جاری ہے۔  آن لائن کے مطابق عدالت نے آئی جی اسلام آباد سے تفصیلی رپورٹ 21 جولائی کو طلب کرلی ہے۔ پولیس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملزم راشد نے  بتایا کہ وہ خالد خواجہ کی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے ۔ وہ خود کو فرزندان  اسلام کہتا ہے اور فکسر  کے طور پر کام کرتا ہے،  اسکی ہمدردیاں  خالد خواجہ  اور طالبان کے ساتھ  ہیں۔ جسٹس جواد ایس خواجہ  نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ  کیا خالد خواجہ  قبر سے نکل کر  بینرز لگا گئے۔  پچاسوں مقدمات میں  پولیس کی نااہلی  اور غفلت ثابت  ہوچکی پولیس نے پیٹی  بھائیوں کو بچانے  کیلئے نااہلی  دکھائی تو عدالت  جوڈیشل  ریویو کے تحت  کارروائی کرے گی  اور معاملے کا خود جائزہ  لیں گے، تفتیش  پولیس کا کام ہے   مگر لگتا ہے کہ  یہ ہمارا کام ہے، پولیس  کی نیت ٹھیک  ہوئی تو اللہ ضرور کامیابی  دے گا۔  ہمیں بینرز کے معاملے کا حل چاہئے  اس معاملے کو ایسے  نہیں چھوڑا جا سکتا۔ افسران کیخلاف تادیبی کارروائی  ہوگی اس میں کوئی رعایت نہیں ہو گی۔