فرقہ وارانہ دہشت گردی سے آپریشن ’’ضرب عضب‘‘ ناکام بنانے کا منصوبہ بے نقاب، کالعدم تنظیموں کی نگرانی

لاہور (معین اظہرسے) ملک میں فرقہ ورانہ دہشت گردی شروع کرکے آپریشن ضرب عضب کو ناکام بنانے کا منصوبہ پکڑا گیا جس پر کالعدم تنظیموں اور مشکوک تنظیموں کی سرگرمیوں کو روکنے ان پر کڑی نگرانی کی ہدایات جاری کر دی گئیں منصوبہ کے تحت کراچی میں ایک مذہبی انتہاء پسند تنظیم کی طرف سے تین دوسرے فرقہ کے افراد کو ٹارگٹ کلنگ کی اطلاعات کے بعد اہلسنت و الجماعت ، لشکر جھنگوی ، سپاہ محمد پاکستان، جیش محمد اور دیگر متعدد تنظیموں کی کڑی نگرانی شروع کر دی گئی ان کے ہارڈ لائن افراد کو حفاظتی تحویل میں لینے کے اقدامات شروع کر دئیے گئے بعض حساس اداروں کی اطلاعات پر نیشنل کائونٹر ٹریزازم اتھارٹی نے ملک بھر کی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کردیا۔ کائونٹر ٹیرازم اتھارٹی کی جانب سے چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹری حضرات کو ایک لیٹر جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بعض جماعتین اور گروہ ملک میں فرقہ ورایت کو ہوا دینے کی کوششیں کررہے ہیں جس میں بعض کالعدم تنظیمیں بھی شامل ہیں اس لئے کالعدم تنظیموں اور مشکوک تنظیموں کی فوری طور پر کڑی نگرانی شروع کر دی جائے اور رپورٹ وزارت داخلہ کو روزانہ کی بنیاد پر بجھوائی جائے۔ خط میں ایک تنظیم کی طرف سے کراچی میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کرکے ملک میں لڑائی کوہوا دینے کی ایک منصوبے کے بارے میں لکھا گیا ہے۔تمام قسم کے ایس ایم ایس جو ایک فرقہ کی طرف سے دوسرے فرقہ کے خلاف جاری ہوں اس پر سخت ایکشن لیا جائے۔ تمام قسم کے لٹریچر اور لاوڈ سپیکر کے غیرقانونی استعمال کو چیک کیا جائے تاہم ایک درجن سے زیادہ افراد اور اداروں کی فہرست جاری کی گئی ہے جن پر تحریک طالبان کی طرف سے حملیکا خطرہ ہے ان میں سابق وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ ، سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ان کے بھائی خالد محمود ملک، پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چودھری شجاعت حسین، سابق وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی چودنری وجاہت ، سابق وفاقی وزیر فردوس عاشق ایوان، ڈاکٹر نسیم الدین وائس چانسلر یونیورسٹی آف گجرات ، محمد امین شامل ہیں، انسداد دہشت گردی ڈیپارٹمنٹ گوجرانوالہ، نندی پور پاور پراجیکٹ گوجرانوالہ، ایکشن ویلفیئر آرگنائزیشن سکول، سی ایم ایچ کھاریاں، آرمی آئل ڈپو کھاریاں، ڈاکٹر ڈوھرا شریف گجرات، آرمی آئل ڈپو حافظ آباد ، پی اے ایف ائل ڈپوگرجرنوالہ، پی اے ایف سپلائی ڈپو ٹو گوجرانوالہ پر حملہ کیا جاسکتا ہے۔