غداری کیس: ججز کو کام سے روکنے سمیت19 دستاویزات، مشرف کی تقریر کی ٹیپ عدالت میں پیش

غداری کیس: ججز کو کام سے روکنے سمیت19  دستاویزات، مشرف کی تقریر کی ٹیپ عدالت میں پیش

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت +آئی این پی) سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کیس کی سماعت کے دوران وزارت قانون کے مشیر نے ججز کو کام سے روکنے سمیت 19 دستاویزات  اور پرویز مشرف کی تقریر کی اصل ٹیپ بطور شہادت خصوصی عدالت  میں پیش کردی۔ منگل کو جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف  غداری مقدمے کی سماعت کی۔ دوران سماعت استغاثہ کی جانب سے 3 گواہوں کو پیش کیا گیا جبکہ وزارت قانون کے مشیر نے ججز کو کام سے روکنے کے اصل نوٹی فکیشن سمیت 19 دستاویزات عدالت میں پیش کیں اور سابق صدر کی جانب سے کی گئی تقریر کی اصل ٹیپ بھی بطور شہادت پیش کی گئی۔اس موقع پر سابق صدر کے وکیل نے استغاثہ کی جانب سے پیش کئے گئے گواہ تاج حیدر پر جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہ آپ نے تمام دستاویزات غیر قانونی طور پر ایف آئی اے حکام کے حوالے کیوں کیں جس پر گواہ تاج حیدر نے کہاکہ یہ بات غلط ہے کہ ایف آئی اے کو غیر قانونی طورپر دستاویزات فراہم کی گئیں جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ ایف آئی اے کے ڈائریکٹر خالد رسول کا انکوائری سے کوئی تعلق نہیں تھا پھر بھی ان کی رہنمائی کیوں لی گئی جس پر تاج حیدر نے کہا کہ ان کے علم میں نہیں ہے کہ ان کا تعلق کیس سے تھا یا نہیں۔ سابق صدر کے وکیل نے تاج حیدر اور سرکاری ٹی وی کے پروڈیوسر طالب حیدر پر جرح مکمل کرلی جس کے بعد عدالت نے سماعت (آج) بدھ تک کے لئے ملتوی کردی۔