ضلعی حکومتوں کے نظام میں بے ضابطگیاں ، محکمہ اینٹی کرپشن شواہد کے باوجود کارروائی سے گریزاں

لاہور (احسان شوکت سے) محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب ضلعی حکومتوں کے نظام میں تین ارب روپے سے زائد کرپشن و بے ضابطگیوں پر کارروائی کے لئے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ اور صوبائی لوکل گورنمنٹ کمشن کی جانب سے بار ہا لیٹر اور آڈٹ پیرے بھجوانے کے باوجود ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے جبکہ محکمہ کرپشن میں ملوث 24 سابق ضلعی ناظمین کیخلاف انکوائریوں میں گنہگار ثابت ہونے کے باوجود انکے خلاف ’’بوجوہ‘‘ مقدمے درج کرنے سے انکاری ہے۔ فائلوں کو بھی دیمک چاٹنے لگی ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے سابق دور حکومت میں ضلعی حکومتوں کے نظام میں اربوں روپے کرپشن کے سکینڈل سامنے آنے پر ان کیخلاف سخت کارروائی کے احکامات جاری کئے تھے جس پر سیکرٹری لوکل گورنمنٹ نے محکمہ اینٹی کرپشن پنجاب کو 24 اضلاع میں ناظمین کی کرپشن پر مبنی 58 آڈٹ پیرے بھجوائے اور محکمہ کو ان کے خلاف کارروائی کیلئے کہا۔ جس میں ضلعی ناظم قصور کے خلاف 3، ننکانہ 4، اوکاڑہ 3، جھنگ 2، ٹوبہ ٹیک سنگھ 1، ساہیوال 3، وہاڑی 3، خانیوال 1، لودھراں 7، ملتان 2، مظفر گڑھ 2، لیہ 1، راجن پور 1، میانوالی 3، خوشاب 1، سرگودھا 2، بہاولنگر 3، رحیم یار خان 1، جہلم 4، راولپنڈی 4، نارووال 1، گجرات 2، منڈی بہاؤالدین 2، گوجرانوالہ 1 اور سیالکوٹ کے ضلعی ناظم کے خلاف کارروائی کیلئے کرپشن و بے ضابطگیوں پر مبنی دو آڈٹ پیرے بھجوائے گئے جن میں سب سے زیادہ کرپشن سٹیزن کمیونٹی بورڈز اور تعمیراتی کاموں کی آڑ میں کی گئی تھی۔ اسکے علاوہ ٹاؤن میونسپل ایڈمنسٹریشن اور تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کے خلاف 116 آڈٹ پیرے بھجوائے گئے۔ جس میں لاہور کے 9 ٹاؤنز بھی شامل تھے جس پر محکمہ اینٹی کرپشن نے 8 پہرے ریڈ کیٹگری، 42 ییلو اور 42 گرین کیٹگری میں منتخب کئے گئے جس سے بااثر ناظمین میں تھرتھلی مچ گئی اور اس مافیا نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے ساری انکوائری ٹھپ کرا لیں۔ لاہور میں درج کئے گئے 5 اور میانوالی کے درج کئے گئے 57 مقدمات پر بھی کارروائی روکدی گئی۔