صوبائی حکومتیں سوشل ویلفیئر میں ناکام ہیں‘ ہر روز شدت سے احساس ہوتا ہے سرکار کو ہم نے چلانا ہے‘ خدارا! اپنا کام کریں ہم پر احسان نہ کریں: جسٹس جواد

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت+ ایجنسیاں) سپریم کورٹ میں سانگھڑ میں فیکٹریوں سے پیدا ہونے والی آلودگی کے کیس میں تین رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں ہر روز شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہم نے ہی سرکار کو چلانا ہے، ایسا نہیں ہونا چاہئے، سرکار نے اپنے کام نہیں کرنے تو پھر یہ ہمارا قانونی فریضہ ہے، ہم نے کرنے ہیں، خدارا اپنا کام کریں ہم پر احسان نہ کریں، عوام کے دئیے گئے ٹیکسوں پر انکو تنخواہیں ملتی ہیں، اگر ہسپتالوں میں گدھے بندھے ہیں تو پھر کے پی کے میں ترقیاتی  سکیمیں کہاں چل رہی ہیں۔ عدالت نے جو کچھ کرنا تھا کرلیا، صوبوں کو یہاں تک بتا دیا کہ یہ رقم انکی ہے وفاق سے لے لیں، لگ یہی رہا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہیں اسکا کوئی حاصل نہیں،کسی کی نیت پر کوئی شک نہیں مگر اٹھارہویں ترمیم سے صوبوں کو جو فوائد ملے انکی مانیٹرنگ نہیں کی جا رہی۔ ایم این اے ناصر خٹک کے وکیل افتخار گیلانی نے عدالت کو بتایا کہ رائلٹی میں سے ضلعی حکومتوں کو صرف 10 فیصد ملتا ہے باقی صوبائی حکومت کے پاس رقم جاتی ہے، مگر حال یہ ہے کہ صوبائی حکومت ان پیسوں سے ترقیاتی کام کرانے چاہئیں مگر ہو اسکے برعکس رہا ہے، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی، جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ دیگر کئی کام انکے  10 فیصد حصے سے پورے کئے جا رہے ہیں اور1381 سکیمیں نجانے کہاں پوری کی جارہی ہیں۔ انہوں نے معدنی دولت کی وجہ سے مختلف صوبوں،ضلعوں کو ملنے والی رائلٹی کی تفصیلات سے عدالت کو آگاہ کیا۔ ثنا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مقامی حکومتوں کے قیام کے بغیر فلاحی سکیموں کی مانیٹرنگ ممکن نہیں، صوبائی حکومتیں سوشل ویلفیئر کا کام کرنے میں ناکام رہی ہیں، فنڈز کے باوجود مفادعامہ کے منصوبے کہیں نظر نہیں آتے۔ وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں کو ایک ایسا موثر مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم بنانا چاہیے جس پر تمام اعدادو شمار موجود ہوں اور متعلقہ محکمے وہ معلومات دیکھ سکیں اس  مقصد  کیلئے پانچوں حکومتیں اقدامات کریں اور 23 جولائی تک رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے، عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ عدالت سمجھتی ہے کہ تیل کمپنیوںکی جانب سے ملنے والی رقوم سے شروع کی جانے والی فلاحی سکیموں کی مانیٹرنگ صرف مقامی حکومتوں کی مانیٹرنگ سے ہوسکتی ہے اور مقامی حکومتوں کے حوالے سے عدالت عظمیٰ کے دوسرے بینچ میں مقدمہ چل رہا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ مقدمہ بھی اس کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔