سی ڈی اے میں کرپشن، حکام کی غفلت پر ذیلی کمیٹی پی اے سی کا اظہار برہمی

اسلام آباد (آئی این پی) پبلک اکائونٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مالی سال 1998-99ء میں وفاقی ترقیاتی ادارہ کے پانی کے 9 منصوبوں میں 24 انچ قطر کی پائپ لائن ڈال کر 36 انچ قطر کے پائپوں کے بل وصول کر کے خزانے کو 11 کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا گیا۔ چار افسروں کے خلاف کارروائی ہوئی ایک بری ہو گیا 3 کو سزا ملی وہ بھی ضمانت پر رہا ہیں‘ ادارے کو کوئی جرمانہ ادا نہیں کیا گیا۔ کمیٹی کا سی ڈی اے میں کرپشن پر حکام کی مجرمانہ غفلت پر شدید برہمی کا اظہار۔ سی ڈی اے میں 8/10 لاکھ کی لوٹ مار کو کرپشن تصور نہیں کیا جاتا۔ 8/10 کروڑ ہو تو کچھ کرنے بارے سوچا جاتا ہے‘ 15 سالوں سے آخر نیب کیا کر رہا ہے۔ ساڑھے سات لاکھ آپریشن متاثرین کیلئے صرف 45 کروڑ‘ میٹرو بس منصوبے پر اربوں لٹائے جا رہے ہیں۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینر کمیٹی شفقت محمود کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہائوس میں ہوا۔ کمیٹی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سی ڈی اے میں دیدہ دلیری سے کام ہوتے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کمیٹی نے سی ڈی اے حکام کو ہدایت کی کہ مذکورہ افسروں کی پنشن اور دیگر مراعات کو روک کر ریکوری کی جائے اور نیب حکام کو کہا کہ اس کیس کا فیصلہ جلد کروایا جائے۔ نیب حکام نے بتایا کہ نیب کی ہائی کورٹ میں اپیل 4 برس سے التوا کا شکار ہے۔ کمیٹی نے میٹرو بس منصوبہ راولپنڈی ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو دینے پر تشویش کا اظہار کیا۔