توانائی شعبہ میں سرکلر ڈیٹ 400 ارب سے تجاوز کرگیا

اسلام آباد (عاطف خان/ دی نیشن رپورٹ) توانائی سیکٹر میں 280 ارب روپے کے سرکلر ڈیٹ کے حکومتی دعوئوں کے برخلاف ڈسکوز کی ڈیفالٹ ادائیگیوں اور ریکوریوں میں آنیوالی کمی کے مدنظر اصل سرکلر ڈیٹ 400 ارب روپے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ ذرائع نے ’’دی نیشن‘‘ کو بتایا سرکلر ڈیٹ تیزی سے گزشتہ سال کے 500 ارب روپے تک جا رہا ہے۔ حالیہ مہینوں میں سرکلر ڈیٹ میں تیزی سے اضافے کی وجہ کئی عناصر ہیں جن میں نیشنل ٹرانسمشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی اور تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے بروقت ادائیگی نہ کرنا بھی شامل ہے۔ مہنگے فرنس آئل سے بجلی کی پیدائش ایک دوسری وجہ ہے۔ اس سال حکومت گزشتہ سال کے مقابلے میں بجلی کی پیداوار کیلئے زیادہ فرنس آئل خرید رہی ہے۔ پانی کے کم بہائو کی وجہ سے حکومت کو زیادہ تیل استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ عام طور پر جولائی میں ہائیڈرو پاور کی پیداوار 6500 میگاواٹ ہوتی ہے مگر اس سال یہ پیداوار کم ہو گئی ہے۔ اس مالیاتی سال کے دوران ریکوریاں بھی کمی ہوئی ہیں اور گزشتہ سال کی 85 فیصد سے کم ہو کر 75 فیصد تک ہو گئی ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ بجلی چوری میں اضافے کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بھی بڑھائی گئی ہیں۔ اس موقع پر حکومت کے سیاسی حریف بھی چیلنج کر رہے ہیں کہ گزشتہ سال 480 ارب روپے کا سرکلر ڈیٹ دینے کی وجہ سے نیشنل گرڈ میں 1700 میگاواٹ بجلی کی پیداوار میں اضافے کا کیا بنا۔ دوسری طرف وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ 85 فیصد لوڈشیڈنگ کم کر دی گئی ہے جبکہ 100 فیصد کمی بدعنوانی اور لائن لاسز کی وجہ سے نہیں ہو سکتی۔ خواجہ آصف کے اس دعوے کے برعکس آئیسکو کے علاوہ دوسری تقسیم کار کمپنیاں ملک بھر میں 12 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کر رہی ہیں۔