پاکستان اور مالدیپ میں چار ایم او یوز پر دستخط‘ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھیں گے : نوازشریف

پاکستان اور مالدیپ میں چار ایم او یوز پر دستخط‘ دہشت گردوں اور انکے سہولت کاروں کے خاتمہ تک چین سے نہیں بیٹھیں گے : نوازشریف

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پاکستان اور مالدیپ نے کثیرالجہتی فورم بالخصوص سارک کی سطح پر تعاون کو فروغ دےنے پر مکمل اتفاق رائے کیا ہے اس بات کا فےصلہ وزیراعظم محمد نواز شریف اور مالدیپ کے صدر عبداﷲ یامین عبدالقیو م کے درمےان ون آن ون ملاقات کیا گےا۔ قبل ازیں مسلح افواج کے چاق و چوبند دستہ نے مالدیپ کے صدر کی وزےراعظم ہاﺅس آمد پر انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے ملاقات کے بعد بےان جاری کےا جس مےں انہوں نے دونوں ملکوں کے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے باہمی تعلقات کو مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان تعلقات باہمی احترام، مشترکہ عقیدہ، مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں، پاکستان تمام اہم شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں جو اہم علاقائی اور عالمی ایشوز پر مشترکہ موقف رکھتے ہیں دونوں سارک ممالک کے رہنماﺅں نے تجارت، سیاحت اور عوامی سطح پر روابط کی اہمیت پر اتفاق کیا۔ وزےر اعظم محمد نواز شرےف نے مالدیپ کے صدر کے دورہ کو دونوں ممالک کے دوطرفہ تعلقات میں اہم سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ پاکستان موسمیاتی اور ماحولیاتی ایشوز پر مالدیپ کی تشویش سے آگاہ ہے سارک کے زیر انتظام مالدیپ کے ساتھ ان ایشوز پر دوطرفہ تعاون کا خواہاں ہے۔ مالدیپ میں پارلیمنٹ پاکستان اور مالدیپ کے عوام کے درمیان دوستی کی ایک زندہ یادگار ہے۔ یہ عمارت پاکستان کی طرف سے برادر ملک کے لئے تحفہ ہے جس کے افتتاح کے لئے انہوں نے 1996ءمیں مالے کا دورہ کیا۔ پاکستان فارن سروسز اکیڈمی میں مالدیپ کے سفارت کاروں کو تربیتی کورسز کی فراہمی جاری رکھے گا۔ پاکستان مالدیپ کے طلبہ کو پروفیشنل کالجوں اور یونیورسٹیوں میں سیٹس کی باقاعدہ پیشکش کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بینکاری کے شعبہ میں کورسز بھی کرائے جاتے ہیں۔ مالدیپ کے صدر یامین عبدالقیوم نے پرجوش میزبانی پر حکومت پاکستان اور عوام سے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا دونوں ممالک کے درمیان 49 سالہ سفارتی تعلقات ہیں پاکستان بااعتماد دوست ملک ہے۔ سونامی کے دوران پاکستان نے مالدیپ کو بھرپور مدد فراہم کی۔ میں نے صدر ممنون حسین کے ساتھ جامع بات چیت کی۔ وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدےپ سارک کو علاقائی تعاون کا ماڈل بنانے کے مقصد کے ساتھ اس پلیٹ فارم پر اپنے موقف کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھنا چاہئے جو مساویانہ اور خودمختاری کے اصولوں پر مبنی ہو دونوں ممالک کے درمیان تجارت ان کی حقیقی صلاحیت سے کم ہے جس میں اضافے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ پاکستان مالدیپ کے ساتھ تعلقات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات ہیں جو باہمی احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں عبداﷲ یامین عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان نے مالدیپ کو ایک تحفہ کے طور پارلیمنٹ کی عمارت تعمیر کر کے دی۔ مالدےپ پاکستان کے ساتھ دوستی کے رشتوں مےں منسلک ہےں۔ دونوں ممالک نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لئے مختلف شعبوں میں مفاہمت کی چار یاداشتوں پر دستخط بھی کئے۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان باہمی ملاقات کے بعد وفود کی سطح پر ملاقات ہوئی جس کے دوران باہمی دلچسپی اور دوطرفہ تعاون کے جامع امور کا جائزہ لیا گیا جن میں سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری، انسداد دہشت گردی، انسانی وسائل کی تربیت، دفاع اور علاقائی صورتحال شامل تھی۔ بعد ازاں وزیراعظم نے وفد کے اعزاز میں ایک ظہرانہ بھی دیا جس مےں بےگم کلثوم نواز نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے درمیان بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں۔ تمام پڑوسیوں سے پر امن تعلقات چاہتے ہیں۔ عبداللہ یامین عبدالقیوم نے کہا کہ پاکستان سے بہترین اور بااعتماد تعلقات چاہتے ہیں۔ پاکستان کا باہمی دورہ باہمی رابطوں کی نئی راہیں ہموار کرے گا۔ وقت کے ساتھ ساتھ باہمی تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ نواز شریف کے پہلے دور سے ہی تعلقات ہیں۔ پاکستان مخلص دوست ثابت ہوا ہے۔ پرتپاک استقبال پر نواز شریف اور عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بہت اعتماد ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی مختلف یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔ اس موقع پر مالدیپ کے صدر عبداللہ یامین عبدالقیوم اور وزیراعظم نواز شریف بھی موجود تھے۔ دونوں ممالک نے کھیل کے شعبے، منشیات، سمگلنگ کی روک تھام سے متعلق مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے اور دونوں ممالک عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دیں گے۔پاکستان اور مالدیپ کے مابین وفود کی سطح پر مذاکرات بھی ہوں گے، جس میں دونوں ممالک کے مابین باہمی تعلقات بہتر بنانے کے حوالے سے بات چیت کی جائے گی۔ عبداللہ یامین عبدالقیوم نے شکرپڑیاں کے مقام پر پودا لگایا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے۔وزیراعظم نواز شریف سے ایم این اے طارق فضل چودھری نے ملاقات کی اور اسلام آباد کے تاجروں کے مسائل سے آگاہ کیا۔ وزیراعظم نے اسلام آباد کے تاجروں کے نمائندہ وفد کو پیر کو طلب کیا ہے۔ وزیراعظم نواز شریف آج گلگت کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم کے ساتھ وفاقی وزراءاور مختلف ممالک کے سفیر بھی گلگت کا دورہ کریں گے۔ وزیراعظم محمد نواز شریف سے میانمر کے کمانڈر انچیف ڈیفنس سروسز سینئر جنرل من انگ ہلینگ نے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان قریبی دوطرفہ تعلقات ہیں اور پاکستان مستقبل میں ان تعلقات میں مزید استحکام کا خواہش مند ہے۔ اپنے دورہ ینگون کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ میانمر کی ترقی و خوشحالی شاندار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانا چاہتا ہے۔


نواز شریف/ آسٹریلوی وزیر خارجہ