اکنامک کوریڈور کا نقشہ شائع کرنے کا فیصلہ ہوا‘ پھر خاموشی چھا گئی

اسلام آباد (عترت جعفری) چین پاکستان  اقتصادی کوریڈور کے تحت گوادر کو ڈیرہ اسماعیل خان میانوالی کے راستے پنجاب سے ملانے کے روٹ کے تحت منصوبے آئندہ مالی سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل کر لئے  گئے ہیں تاہم حکومت کی طرف سے تاحال سرکاری طورپر عوام کے سامنے روٹس کے بارے میں ویب سائٹ خاتمہ نہ کرنے اور  منظر عام پر نقشہ جات کو سامنے نہ لانے کے باعث خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے اور ’’گیم چینجر‘‘ تصور کیا جانے والا اہم ترین منصوبے کے بارے میں بلوچستان میں ہڑتال ہو چکی ہے۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے اور وزیر اعلیٰ سندھ کے مخالفانہ بیانات بھی میڈیا میں آ چکے ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی کے ذرائع اور معاشی ماہرین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ چین پاکستان اکنامک کوریڈور کے نقشے اشتہارات کی شکل میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر بعدازاں دوست ملک کی خواہش پر خاموشی  اختیار کی گئی۔ وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والی 13 مئی کے اجلاس کی حیثیت بھی ’’ان کیمرہ‘‘ ہو گی۔ ذرائع کا کہنا کہ اقتصادی راہداری کے روڈ ٹو اور روٹ تھری کے حوالے کے مسائل ہیں۔ ایک وزیر ان دونوں میںایک روٹ کو فیصل آباد سے گزارنے کے خواہشمند ہیں۔ معاشی ماہرین کا کہنا تھا کہ حکومت کو جتنی جلد ممکن ہو صوبوں کے تحفظات کو دور کر دینا چاہیئے اور اس سلسلہ میں تاخیر شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی 13 مئی کی بریفنگ کے لئے تیاری کر رہے ہیں جس کے بعد ممکنہ طور پر اقتصادی راہداری کے بعض حصوں کے بارے میں عوام کو اعتمادمیں لیا جائے گا۔