2016 میں دہشتگردی کی نسبت ٹریفک حادثات میں لوگوں کی ہلاکتیں زیادہ ہوئیں

سلام آباد(خبر نگار)نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس اور سوسائٹی آف ائیر سیفٹی انویسٹی گیٹرز پاکستان (SASI) کی جانب سے اسلام آباد کلب میں انٹرنیشنل ایکسڈنٹ انسویسٹی گیشن پر یو نیشن ٹریننگ کے موضوع پر سیمینار کا انعقادکیا گیا۔ انسپکٹر جنرل نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس ڈاکٹر سید کلیم امام سیمینار کے مہمان خصوصی تھے۔ انسپکٹر جنرل ، نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس ڈاکٹر سیدکلیم امام نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس پاکستان آرمی کے بعد دوسری بڑی آرگنائزیشن ہے۔موٹروے پولیس اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے شاہرائوں کو حادثات سے محفوظ بنانے کیلئے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا دوران ڈرائیونگ سو جانے کی وجہ سے ہونے والے حادثات پر قابو پانے کے موٹروے پولیس نے شاہرائوں پر Wake up points بنائے ہیں۔ جہاں پرگاڑیوں کو روک کر ڈرائیور وں کو پانی اور چیونگم فراہم کیا جاتا ہے اور ان کا منہ ہاتھ دھلایا جاتا ہے ۔ ڈائریکٹر آٹو موٹو ڈیزائن اینڈ سیفٹی لیب ڈاکٹر عمر مسعود قریشی میکنکل انجینئر نے احمد پور شرقیہ حادثہ کی انویسٹیگیشن پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ حادثہ ڈرائیور کی اور میکنکل غلطی کی وجہ سے ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ 2016میں دہشگردی کے نسبت ٹریفک حادثات میں زیادہ لوگوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ فائونڈیشن اینڈ سی ای او ٹرن ارونڈ مینجمینٹ ایسوسی ایشن آف پاکستان طاہر محمو د چوہدری نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں روزانہ 15افراد مختلف حادثات میں اپنی جان گنوا دیتے ہیں ، بریگیڈئر ریٹائرڈ چوہدری حامد حسین نے سیمینار سے ہیلی کاپٹر سیفٹی کے موضوع پر خطاب کیا۔ ڈاکٹر فاطمہ یوسف ممبر ساسی نے روڈ ایکسیڈنت اور فضائی حادثات کے حوالے سے سیمینار سے خطاب کیا۔