ملک کی ترقی کیلئے میثاق معیشت لانا ہوگا، پاکستان کو مخالفت برائے مخالفت کی سوچ سے محفوظ بنائیں

اسلام آباد ( خبر نگار) مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاسی رہنماؤں نے قومی معیشت کی ترقی اور عوام کے بہترین مفاد کے پیش نظر ایک مشترکہ ’میثاق معیشت ‘ وضع کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ معیشت سے متعلق تمام اہم پہلوؤں پر مشترکہ قومی سوچ اختیار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ پاکستان اور عوام کا مفاد مخالفت برائے مخالفت کی سوچ سے متاثر ہونے سے محفوظ بنایا جا سکے۔ سیاسی رہنماؤں نے کہا ہے اب وقت آ گیا ہے کہ نجکاری، تجاری خسارے پر قابو پانا اور ٹیکسوں کے نظام کو متوازن بنانا ایسے معاملات میں شامل ہے جن کا حل غیر سیاسی بنیادوں پر تلاش کیا جائے اور انہیں سیاسی بنیادوں پر مخالفت کی نذر نہ ہونے دیا جائے۔ قومی سیاسی رہنماؤں نے ان خیالات کا اظہار پالیسی ادارہ برائے پائیدار ترقی (ایس ڈی پی آئی) کے زیر اہتمام 20ویں پائیدار ترقی کانفرنس کے تیسرے روز ’میثاق معیشت: متفقہ سماجی و معاشی ایجنڈے کی ضرورت‘ کے موضوع پر منعقدہ نشست کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ عوامی نشینل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں اس وقت غربت کی شرح 73%ہے۔ میثاق معیشت کے تحت تمام اضلاع میں یکساں ترقی کو یقینی بنایا جائے۔ا نہوں نے کہا ملک کو جہادی معیشت سے نکل کر تجارتی معیشت کی طرف لا جانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ملک میں نجکاری کی بہت باتیں ہو رہی ہیں تاہم ہمیں قومی سطح پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ اب تک نجکاری نے ملکی معیشت میں کیا کردار ادا کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی ہی کے سینئر رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ پاکستان میں تجارتی خسارہ بڑح رہا ہے۔ نجکاری کے لیے ضروری ہے کہ اس حوالے سے سازگار فضا یقینی اور شفافیت کو یقنی بنایا جائے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ پاکستان میں نجکاری کے ماڈل کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں نجکاری کے نام پر ذاتی مفادات کا تحفظ کیا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف ہی کے سینیٹر نعمان وزیر نے کہا کہ ریاست کی ملکیتی ادارے صرف اسی صورت میں چل سکتے ہیں جب ان میں سیاسی مداخلت قطعی نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت قومی ملکیتی اداروں میں نکمے ملازمین کی بھرمار ہے جو قومی خزانے پر بوجھ ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے خزانہ مفتاح اسمعیل نے کہا کہ نجکاری کے خلاف دلائل کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ماہر معیشت ڈاکٹر ہارون شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک ہی کام کے لیے وزارتوں کی بھرمار ہے، وزارتوں کو مربوط کر صنعت و تجارت کے ضمن میں امور کو آسان بنایا جائے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی رانا محمد افضل خان نے کہا کہ بدترین حالات کے باجود مسلم لیگ(ن) کی ھکومت نے چند اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں اور معیشت کو بہتر بنایا ہے۔