لندن کے میئر کی شاہد خاقان‘ خواجہ آصف اور پرویز ملک سے ملاقاتیں

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی+ سٹاف رپورٹر) لندن کے میئر صادق خان نے گزشتہ روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے صادق خان اور ان کے ہمراہ آنے والے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ صادق خان کے میئر لندن کی حیثیت سے انتخاب پر ہر پاکستانی کو فخر ہے‘ پاکستان برطانیہ کے ساتھ قریبی تعلقات کو بے حد اہمیت دیتا ہے‘ برطانیہ میں بڑی تعداد میں پاکستانی برادری موجود ہے۔ انہوں نے میئر لندن کو پاکستان کے اندر سرمایہ کاری کے مختلف مواقع کے بارے میں بتایا۔ حکومت کی کوششوں سے پاکستان کے پاس اب بجلی فاضل ہو گئی ہے۔ میئر لندن نے وزیراعظم کو پاکستانی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کے بارے میں بتایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانیوں کو برطانیہ میں موجود سازگار کاروباری مواقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ صادق خان نے بتایا کہ انہوں نے برٹش میوزیم میں قائداعظم محمد علی جناح کے مجسمے کا افتتاح کیا۔ یہ مجسمہ اب ’’لنکزان‘‘ میں رکھا گیا ہے۔ صادق خان نے وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف سے دفتر خارجہ میں ملاقات کی۔ خواجہ آصف نے میئر کا خیرمقدم کرتے ہوئے لندن جیسے شہر کو موثر قیادت فراہم کرنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اقتصادی شعبہ میں پاکستان کی کامیابیوں اور علاقائی صورتحال سے لندن کے میئر کو آگاہ کیا۔ میئر صادق خان نے اپنی مہم ’’لندن سب کے لئے کھلا ہے‘‘ کے بارے میں بتایا اور کہا کہ لندن تعلیم اور کام کے لحاظ سے دنیا کا بہترین شہر ہے۔ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تعلیم، ثقافت اور فنون کے شعبہ میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صادق خان نے کہا کہ برطانیہ میں 1.7 ملین پاکستانی نژاد موجود ہیں اور وہ خود بھی ان میں سے ایک ہیں۔ وفاقی وزیر تجارت پرویز ملک نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کا قابل اعتماد دوست ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان 2.08 بلین یورو کی تجارت ہے‘ پاکستان نے 1.3 بلین یورو کا مال برطانیہ برآمد کیا۔ مینوفیکچرنگ کا شعبہ زیادہ تر چین یا جنوب مشرقی ایشیا منتقل ہوا‘ پاکستان براہ راست سرمایہ کاری سے محروم رہا‘ بنگلہ دیش کو ڈیوٹی فری رسائی دی گئی‘ موجودہ حکومت نے معیشت کو مستحکم کیا‘ پاکستان کی مصنوعات کو رسائی ملنی چاہئے‘ پاکستان مختلف بین الاقوامی کنونشنز پر عمل کر رہا ہے‘ میئر لندن کے ساتھ مفید بات چیت ہوئی۔ توقع ہے کہ برطانوی کمپنیاں سی پیک کے تحت منصوبوں میں شامل ہوں۔