میں تو سمجھا تھا آج آخری پیشی ہوگی، عمران کی پریشانی پر بابراعوان حیران

میں تو سمجھا تھا آج آخری پیشی ہوگی، عمران کی پریشانی پر بابراعوان حیران

اسلام آباد (چوہدری شاہد اجمل) عمران خان انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کے موقع پر پریشان نظر آئے۔ ان کے چہرے پر الجھن کے تاثرات تھے۔ وہ پارٹی رہنمائوں نعیم الحق ،بابر اعوان و دیگر کے ہمراہ عدالت میں پہنچے تو قدرے ہشاش بشاش نظر آرہے تھے لیکن جیسے ہی سماعت شروع ہوئے اور عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے اپنے موکل کی ضمانت میں توسیع کی بجائے عدالت کے دائرہ کار کو چیلنج کیاتو عدالت کے جج شاہ رخ ارجمند نے انہیں کہا کہ کیا آپ ضمانت کی بجائے اس پر بات کریں گے تو عمران خان اور پی ٹی آئی کے دیگر رہنمائوں کے چہرے کے تاثرات بدلنا شروع ہو گئے ،اور عدالت کی طرف سے عمران خان کو دوبارہ چوتھے روز طلب کر لیا گیا ،سماعت کے دوران عمران خان اپنے وکیل کے ساتھ اس وقت تک کھڑے رہے جب تک بابر اعوان نے اپنے دلائل مکمل نہیں کر لیے۔سماعت کے بعد عمران خان جب عدالت سے باہر آئے اور میڈیا سے گفتگو کرنے لگے تو ان کے چہرے پر پریشانی واضح دیکھی جا سکتی تھی۔انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جب ملزم عمران خان کی عبوری ضمانت میںتین روز کی توسیع کی تو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کمرہ عدالت میں تو کچھ نہ کر سکے البتہ واپس جاتے ہوئے انھوں نے اس کا غصہ اپنے وکیل بابر اعوان پر نکال دیا۔جب عمران خان اپنی گاڑی میں بیٹھنے لگے توانہوں نے بابر اعوان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ’’ مجھے تو بلاتے ہی جائیں گے میں تو سمجھا تھا کہ آج یہ آخری پیشی ہے‘‘۔اس موقع پر بابر اعوان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور وہ نے عمران خان کومطمئن کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن عمران خان نے ان کی بات سنی ان سنی کردی ،انہوں نے زور سے گاڑی کا دروازہ بند کر دیا اور وہاں سے روانہ ہوگئے۔عمران خان کی پیشی کے موقع پر بھی سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے ،جوڈیشل کمپلیکس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔