امریکی فیصلہ کےخطہ پر سنگین اثرات مرتب ہونگے: صدر ممنون

اسلام آباد (سپیشل رپورٹ+ خصوصی نمائندہ) صدر ممنون حسین نے امریکہ کی طرف سے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اس فیصلے کے خطے پر سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔ ووٹرز ڈے کی ایوان صدر میں منعقد ہونے والی تقریب میں خطاب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ او آئی سی کا سربراہ اجلاس یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت بنانے پر سخت موقف اختیار کرے۔ صدر نے ترک صدر طیب اردگان کی طرف سے اسلامی سربراہ کانفرنس طلب کرنے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ صدر نے کہا توقع ہے کہ امت مسلمہ اس امریکی اقدام کا سختی سے نوٹس لے گی۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ معاشرے کا ہر فرد دل وجان سے یہ تسلیم کرلے کہ اس کی قسمت کا فیصلہ صرف اورصرف ووٹ کے ذریعے ہی ہو سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انتخابی نظام کو فعال، تیز رفتار اور شفاف بنانے کے علاوہ بچوں کے ذہنوں میں بھی ابتدائی عمر سے ہی ووٹ کا تقدس نقش کر دیا جائے اس مقصد کے لیے اگر تعلیمی نصاب سے مدد لینے کی ضرورت ہو تو وہ بھی لی جائے اور معاشرتی سطح پر جن اقدامات کی ضرورت ہو، وہ بھی بلا جھجھک کیے جائیں۔صدر ممنون حسین نے کہا کہ انتخابی عمل کو انفارمیشن ٹیکنالوجی اور جدید رجحانات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ناخواندہ اور کم آمدنی والے طبقات کا خیال بھی رکھا جائے اورپرانے طور طریقوں اور جدید ٹیکنالوجی کے درمیان ایسا توازن پیدا کیا جائے جس سے نظام کی فعالیت میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔