العزیزیہ مل ریفرنس: نجی بنک کی دستاویزات ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم، خارج کرنے کی درخواست مسترد

اسلام آباد(نا مہ نگار)اسلام آباد کی احتساب عدالت نے قومی احتساب بیورو (نیب)کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز کے حوالے سے دائر ریفرنس کے حوالے سے ان کی معاون وکیل عائشہ حامد کی دستاویزات ریکارڈ سے خارج کرنے کی درخواست مسترد کردی ہے۔ریفرنس کی سماعت پیر 11دسمبر تک ملتوی ،آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہ ملک طیب کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا اور نواز شریف کے وکیل ان پر جرح کریں گے،اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نوازشریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کی۔نواز شریف کے بیرونِ ملک ہونے اور عدالت سے استثنی کے باعث ان کے نمائندے ظافر خان سماعت کے لیے عدالت میں پیش ہوئے جبکہ نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی جگہ ان کی معاون وکیل عائشہ حامد عدالت میں موجود تھیں۔سماعت کے آغاز میں احتساب عدالت نے عائشہ حامد کی جانب سے دائر درخواست مسترد کردی جبکہ نجی بینک کی منیجر نورین شہزاد کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم دے دیا۔نواز شریف کی وکیل عائشہ حامد نے احتساب عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی جس میں انہوں نے اعتراض اٹھایا تھا کہ نیب نے نجی بینک کی منیجر نورین شہزاد کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ نہیں بنایا جاسکتا کیونکہ ان کا نام گواہوں کی فہرست میں نہیں تھا۔نواز شریف کی وکیل کا کہنا تھا کہ نورین شہزاد کی جانب سے دستاویزات جمع کرانے سے متعلق ہمیں کوئی نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا۔پراسیکیورٹر کے وکیل نے اپنے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ نورین شہزاد اب اس بینک کی منیجر ہیں جہاں استغاثہ کے گواہ ملک طیب تعینات تھے تاہم نورین شہزاد نے بھی نواز شریف کے اکائونٹس سے متعلق دستاویزات پیش کیں، نورین شہزاد بطور گواہ نہیں، صرف ریکارڈ کی حد تک پیش ہوئی ہیں۔ اب بینک کی مینیجر نورین شہزاد ہیں، انکی دستاویزات کو بھی ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے، احتساب عدالت نے معاون وکیل صفائی کی اعتراضات پر مبنی درخواست خارج کرتے ہوئے بینک افسر نورین شہزاد کی پیش کردہ دستاویزات کو ریکارڈ کا حصہ بنانے کا حکم دے دیا۔سماعت کے دوران استغاثہ کے گواہ ملک طیب نے نواز شریف کے مختلف بینک اکانٹس کی تفصیلات پیش کردیں،عدالت نے ریفرنس کی سماعت پیر 11دسمبر تک ملتوی کر دی ہے۔آئندہ سماعت پر استغاثہ کے گواہ ملک طیب کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا اور نواز شریف کے وکیل ان پر جرح کریں گے۔