ذیلی کمیٹی خزانہ نے بدعنوان افسروں کی پیش کردہ فہرست کا تفصیل سے جائزہ لیا

اسلام آباد (اے پی پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی ذیلی کمیٹی نے (ایف بی آر)کی طرف سے بدعنوان افسران کی پیش کردہ فہرست کا تفصیل سے جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کیا کہ بڑی نوعیت کے کیسز کا جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں ان کے متعلق تفصیلات اور کی گئی انکوائریاں طلب کی جائیں گی ۔ ذیلی کمیٹی نے یہ بھی ہدایت کی کہ جعلی ریفنڈ کیسز میں جتنے ملازمین ملوث ہیں ان کی تفصیلات بھی آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں ۔ ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنونیئر کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی زیر صدار ت پارلیمنٹ ہاﺅس میں ہوا۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں زرعی ترقیاتی بنک کی طرف سے گزشتہ چار برسوں کے دوران دیئے گئے کسانوں کو قرضہ جات اوربنک میں کی گئی تقرریوں کے علاوہ فیڈرل بورڈ آف ریونیوکے بدعنوان ملازمین کے خلاف کی گئی انکوائریوں اور 15 نومبر2015ءسے التوا کا شکار کیسز کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا ۔ ایف بی آر حکام نے ذیلی کمیٹی کو تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 2015ءکو ایف بی آر کے کرپٹ ملازمین کے خلا ف 198 کیسز تھے جن میں سے 99 کا فیصلہ ہوگیا، 6 کیسز میں ملازمین کو فارغ کر دیا گیا جبکہ دیگر کیسز میں سے کچھ عدالتوں میںہیں اور کچھ کی انکوائری جاری ہے۔ جس پر کنونیئر کمیٹی محسن عزیز نے کہا کہ کرپٹ ملازمین کے خلاف نہ صرف ادار ے کارروائی کریں بلکہ جتنی کرپشن کی جاتی ہے اس کی ریکوری بھی کی جائے ۔ ایف بی آر حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ 99 فیصد کیسز ادارے کے اپنے چیک اینڈ بیلنس کی وجہ سے سامنے آئے ہیں عوامی شکایات بہت کم ہیں۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں زرعی ترقیاتی بنک کے صدر نے گزشتہ چار سالوں کے دوران کی گئی تقرریوں اور فراہم کیے گئے قرضہ جات کی تفصیلات سے آگاہ کیا ۔ کنونیئر و اراکین کمیٹی نے کہا کہ بنک نے جتنی ریکوریاں کی ہیں ، کسانوں کو اتنا قرضہ فراہم نہیں کیا تاکہ وہ بہتر کاشتکاری کر سکیں، ریکوری کا تناسب زیادہ ہے ۔ 2016 میں 102 ارب کی ریکوری کی گئی جبکہ 92 ارب کے قرضہ جات کسانوں کو دیئے گئے ۔ کنونیئر کمیٹی نے کہا کہ بنک کا مقصد کسانوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ دینا ہے۔ وہ اضلاع جو زرعی لحاظ سے بہتر ہیں ان پر خصوصی توجہ دینا چاہے تاکہ زیادہ پیدا وار دینے سے ملکی معیشت پر بہتر اثرات مرتب ہو سکیں ۔ ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سینیٹر محمد محسن خان لغاری ، سینیٹرسعود مجید کے علاوہ صدر زرعی ترقیاتی بنک اور ایف بی آر حکام نے بھی شرکت کی۔
ذیلی کمیٹی