ریلوے زمین پر قبضے کیخلاف سینٹ قائمہ کمیٹی نے اٹارنی جنرل کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد(آئی این پی)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے ریلوے کی زمین پر غیر قانونی قبضوں کے خلاف عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں اٹارنی جنرل کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ خیبرپی کے نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کر لیا ہے جبکہ بلوچستان اور سندھ بھی کہہ رہے ہیں کہ ہم عمل کریں گے لیکن پنجاب عمل نہیں کررہا ، وزارت ریلوے اور بورڈ آف ریونیو پنجاب آپس میں میٹنگ کر کے معاملہ حل کریں ، معاملہ حل نہ ہونے کی صورت میں ہم اٹارنی جنرل اور سیکرٹری قانون کو بلائیں گے ۔ جمعرات کو قائمہ برائے ریلوے کا اجلاس سینیٹر سردار فتح محمد حسنی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام کی جانب سے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں ریلوے کا ٹوٹل نیٹ ورک 7751کلومیٹر ہے ۔ سی پیک کے تحت ریلوے کے منصوبوں کی فزیبیلٹی سٹڈی کا کام ہورہا ہے ، گوادر سے بسیمہ اور جیکب آباد کو جوڑنے کےلئے لائن بچھائی جائے گی ۔ریلوے منصوبوں کی فزیبلٹی سٹڈی کا کنٹریکٹ سائن کر رہے ہیں اس فیزیبلٹی میں تین سیکشن شامل ہیں ۔ ہمیں تین جگہوں پر زمین کی ضرورت پڑے گی ، ایک گوادر پورٹ کے اندر ہے دوسری گوادر کو جوڑنے کی ہے اور تیسری حکومت خیبرپی کے سے ہوگی ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ کوئٹہ سے گوادر تک لمبی لائن ہے ۔ حکومت تو زمین دے دے گی پرائیویٹ زمین کا مسئلہ بن جاتا ہے ۔ ریلوے حکام نے کہا کہ ایم ایل ون کی فزیبیلٹی مکمل ہو چکی ہے ۔
فیصلہ