فرد جرم پر زرداری کا اظہار تشویش‘ پنجاب پراسیکیوشن نے بابر اعوان کیخلاف پیروی کر کے عدالتی عمل کا غلط استعمال کیا : صدارتی ترجمان

اسلام آباد / کراچی (ریڈیو نیوز / وقت نیوز + ایجنسیاں) پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے وفاقی وزیر قانون بابر اعوان پر اغوا و ڈکیتی کے مقدمے میں فرد جرم عائد کئے جانے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات آصف زرداری کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک بیان میں کہی۔ ترجمان کے مطابق پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے بابر اعوان کیخلاف سیاسی بنیادوں پر بارہ سال پہلے بنائے گئے مقدمے کی پنجاب پراسیکیوشن کی طرف سے پیروی کو انتہائی بدقسمتی اور سیاسی مخالف کو عدالتی عمل کے غلط استعمال کی نمایاں مثال قراردیا ہے۔ بیان کے مطابق یہ کیس اس وقت درج کیا گیا تھا جب بابر اعوان آصف زرداری کے وکیل تھے۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے امید ظاہر کی ہے کہ سول سوسائٹی وکلاءکی تنظیمیں اور روشن خیال عوام اس معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیں گے اور عدالتی عمل کے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ غلط استعمال کے ذریعے بارہ سال پرانے مقدمے کی سیاسی مقاصد کیلئے پیروی کی مذمت کی جائیگی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا کہ پارٹی اپنے ان تمام کارکنوں کے ساتھ کھڑی ہے جنہوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ پیپلز پارٹی اپنے کارکنوں کا تحفظ کریگی کہ انہیں سیاسی طور پر ہراساں نہ کیا جا سکے اور نہ ہی ہدف بنایا جا سکے۔آن لائن کے مطابق صدارتی ترجمان نے بابر اعوان کے خلاف دائر مقدمات کو سیاسی انتقامی کارروائی کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ آزاد عدلیہ کی باتیں کرنیوالوں کے اقدامات کھلا تضاد ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ بابر اعوان پر سیاسی بنیاد پر درج مقدمے میں فردجرم عائد کرنا واضح بدنیتی ہے۔ فرحت اللہ بابر کے مطابق وفاقی وزیر بابر اعوان راولپنڈی کی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنی پوزیشن واضح کی کہ میرے خلاف دائر مقدمہ سیاسی انتقامی کارروائی کے باعث درج کیاگیا تھا جو کہ غلط ہے لیکن اس کے باوجود صدارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ پنجاب پراسکیوشن ڈیپارٹمنٹ نے ان کے خلاف یہ عدالتی عمل جاری رکھا جوکہ پولیٹیکل سکور سیٹل کرنے کے لئے کیاگیا۔ دریں اثناء بلاول ہاﺅس کے ترجمان اعجاز درانی نے بھی بابر اعوان پر فرد جرم عائد کرنے کے فیصلے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ اعجاز درانی نے کہا کہ سپریم کورٹ کوٹیکنا کیس میں خود اس بات کی تصدیق کر چکی ہے کہ بڑے میاں اور چھوٹے میاں کے دور میں بدنام زمانہ سیف الرحمن نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے رفقاءکے خلاف جتنے مقدمات قائم کئے تھے وہ سراسر متعصبانہ اور جھوٹ پر مبنی تھے۔ راولپنڈی کے ایک سول جج کی جانب سے اس جھوٹے مقدمے میں بابر اعوان کے خلاف فرد جرم عائد کرنا ملک کے پورے عدالتی نظام کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ ترجمان نے اس امر کو بدقسمتی کا باعث قرار دیا کہ ماضی میں صدر آصف زرداری کو دوران حراست قتل کرنے کی کوشش میں ملوث ایک شخص رانا مقبول کو بڑے میاں اور چھوٹے میاں نے صوبہ پنجاب میں ایک اہم عہدے پر فائز کیا‘ دوسری طرف وفاقی حکومت میں آئینی و قانونی فرائض انجام دینے والے اہم فرد بابر اعوان کے خلاف ڈکیتی جیسے مجرمانہ مقدمے میں فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ دے کر پوری دنیا میں پاکستان کی جگ ہنسائی کی جا رہی ہے۔ اس قسم کے جھوٹے سیاسی مقدمات بابر اعوان کا صوبہ پنجاب میں داخلہ اور راستہ بند کرنے میں ناکام ثابت ہوں گے۔
صدارتی ترجمان