شمالی وزیرستان میں ضربِ عضب ‘ سرحد پار ’’الوداعی کارروائی‘‘ دونوں اطراف محاذ گرم

اسلام آباد (سہیل عبدالناصر) شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن ضربِ عضب جاری ہے۔ ادھر سرحد پار افغان طالبان نے قابض غیرملکی فوجوں کیخلاف ’’الوداعی کارروائی‘‘ کے نام سے زوردار حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جس کے باعث پاکستان، افغانستان سرحد کے دونوں اطراف محاذ گرم ہے۔ یہاں موصولہ اطلاعات کے مطابق طالبان نے رواں سال کے ماہ مارچ سے ان کارروائیوں کا آغاز کیا جس کا مقصد افغانستان سے نکلنے والے اتحادیوں کو مزید زچ کرنا، انخلا کے عمل کو تیز کرانا اور یہ باور کرانا ہے۔ حالیہ صدارتی انتخاب کے بعد نئی انتظامیہ بھی ملک استحکام نہیں لاسکتی بلکہ غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد افغان عوام نئے سرے سے اپنی حکومت چنیں گے۔ ایک مستند ذریعہ کے مطابق طالبان کی ان کارروائیوں کے ردعمل میں کنڑ اور نورستان میں روپوش پاکستانی شدت پسندوں کی معمول سے بھی زیادہ سرپرستی کر رہی ہے۔ ایک اور ذریعہ کے مطابق شمالی وزیرستان میں آپریشن ضربِ عضب کے نتیجہ میں افغانستان کے اندر طالبان کی مذکورہ کارروائیاں متاثر ہو سکتی ہیں کیونکہ شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے امریکی دعوؤں کے مطابق واقعی اتنے ہی مضبوط ٹھکانے تھے تو اب آپریشن ضربِ عضب کے نتیجہ میں انہیں ٹھکانے منتقل کرنے اور ازسرنو ٹھکانے بنانے میں لامحالہ مشکل پیش آئیگی جس کا نتیجہ ان کی کارروائیوں پر پڑیگا۔
محاذ گرم