ایک تصویر………… ایک کہانی

ایک تصویر………… ایک کہانی

حکومتی کی جانب سے خطرات کے پیش نظر سیکورٹی اہلکاروں سے سخت اورطویل ڈیوٹی لی جاتی ہے مگر فرائض کی ادائیگی کی نوعیت کے حوالے سے سہولیات فراہم نہیں کی جاتیں جس کی وجہ سے ان میں بددلی ، اکتاہٹ ، تھکن کا پیدا ہونا لازمی جز بن گیا ہے ، چاک چوبند ،تندرست و توانا ہونا جو ایک سیکورٹی اہلکار کا خاصہ ہوتا ہے موجودہ اہلکاروں میں وہ چیز کم ہی نظر آتی ہے ایسے میںفیض آباد دھرنا جیسے آپریشن ناکام نہ ہو تو کیا ہو؟ زیر نظر تصویر میں احتساب عدالت اسلام آبا د کے باہر شریف فیملی کے مقدمات کے حوالے سے صبح چار بجے سے سخت سردی میں تعینات فرنٹیئر کانسٹیپلری کے جوان نظر آرہے ہیں ، جو تھکن اور بھوکے پیاسے سٹرک کے کنارے بیٹھے ہوئے ہیں اس حالت میں ان سے بہترین نتائج کی توقع رکھنا احمقانہ سوچ ہوگی ، گیو اینڈ ٹیک کا اصول ہے کسی کو کچھ دو او بدلے میں کچھ لو، اسی طرح حکومت کے متعلقہ اداروں کی جانب سے ریاست اور عوام کے یقینی تحفظ کیلئے سیکیوٹی اپلکاروں کی بنیادی سہولیات کا خیال رکھنا ہوگا، تب ہی مطلوبہ اہداف حاصل کئے جاسکتے ہیں ، (تصویر و تحریر۔ سہیل ملک)