کسی کو لوٹ مار کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘ سپریم کورٹ

کسی کو لوٹ مار کی اجازت نہیں دی جا سکتی‘ سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ میں مورگاہ سٹی روات اسلام آباد کے فیصلے پر عدم عمل درآمدپر توہین عدالت کیس کی سماعت میں عدالت نے مورگاہ سٹی انتظامیہ کے وکیل سے اراضی کی خریدو فروخت ، 655 متاثرہ افراد کو پلاٹس یا رقوم کی واپسی کے لائحہ عمل سے متعلق دستاویزات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت دو ہفتے تک ملتوی کردی ہے ،دوان سماعت جسٹس عظمت سعید نے قرار دیا کہ عدم تعاون اور آئندہ سماعت تک ریکارڈ فراہم نہ کیا گیا تو کیس نیب کو بھیج دیں گے عدالت لوگوں کے آئینی حقوق کی محافظ ہے کسی کو شہریوں سے لوٹ مار کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، عدالت سے عدم تعاون پر ملوث افراد جیل جائیں گے۔ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے توہین عدالت کیس کی سماعت کی تو مورگاہ سٹی انتظامیہ کے ضمانت پر رہا ہونے والے تین آفسران(ملزمان) اور ان کے وکیل سردار اسلم ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے ، وکیل نے کہا کہ وہ کچھ دستاویز ات عدالت میں جمع کروانا چاہتے ہیں متاثرہ افراد کو پلاٹس یا رقوم کی واپسی کے طریقہ کار بارے غور کررہے تھے کہ کچھ متاثرہ افراد نے عدالت سے رجوع کرلیا انتظامیہ پلاٹس یا رقوم کی واپسی کے لیے تیار ہے اس کے لیئے ایک لاٗئحہ عمل بنایا گیا ہے عدالت مہلت دے آئندہ سماعت پر پیش کردیا جائے گا ، عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا یہ بات تو گزشتہ سماعت پر بھی کہی گئی تھی، عدالت سے عدم تعاون کیا جارہا ہے اجتماعی فراڈ میں یہ سیدھا نیب کا کیس بنتا ہے ، بعدازاں عدالت نے متعلقہ ریکارڈ آئندہ سماعت پر پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کردی ہے۔