پرنٹنگ کارپوریشن کا خسارہ پورا نہیں ہوسکتا، بند کردیا جائے: سیکرٹری کابینہ

اسلام آباد ( آئی این پی) پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری کابینہ راجہ حسن عباس نے انکشاف کیا کہ پرنٹنگ کارپوریشن کو بند کردیا جائے اس کا خسارہ پورا نہیںہوسکتا، جبکہ سی ڈی اے کے ذمہ اربوں روپے کی وصولیاں واجب الادا ہیں، چیئرمین کمیٹی نے سی ڈی اے کے ریکوری مجسٹریٹ کے خلاف انکوائری کی ہدایت کر دی، عدم وصولی پر چیئرمین سی ڈی اے پر اظہار برہمی کیا گیا۔ آڈٹ حکام نے بتایا کہ فیض آباد سے فلائنگ کلب تک ساڑھے 12 کلومیٹر کی شاہراہ کی تعمیر کیلئے اشرف بلوچ نامی ٹھیکہ دار کو ٹھیکہ دیا گیا جو پیسے لیکر بھاگ گیا جبکہ پل کی تعمیر کا ٹھیکہ ایک کنسلٹنسی فرم آر ای سی کو دیا گیاجس نے پیسے لیکر تعمیر کا کام شروع نہ کیا جس سے سی ڈی اے کو 50 کروڑ روپے سے زائد کانقصان ہوااور تین سال ضائع ہونے کیوجہ سے شاہراہ کی تعمیر کے اخراجات میں تین گنا اضافہ ہوگیاجبکہ زمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔  سی ڈی حکام نے بتایا کہ کنسلٹنٹ کیخلا ف پاکستان انجنیرنگ کونسل کو بھی لکھ دیاہے کہ اس کو بلیک لسٹ کیا جائے۔ممبر کمیٹی جنیدا نوار چوہدری نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اخراجات میں 318 فیصد اضافہ ہوا کیااس کرپشن میںصرف ٹھیکدار اورکنسلٹنٹ کمپنی ہی ملوث تھے کوئی سی ڈی کا اہلکار ملوث نہیںتھااڈٹ حکام نے بتایا کہ صرف 88 ملین ہی ابھی تک ریکورہوئے ہیں 88 ملین روپے کی ادائیگی ہونا ابھی باقی ہے۔ سیکرٹری کابینہ ڈویژن راجہ حسن عباس نے بتایا کہ پرنٹنگ کارپوریشن کی مشینیں بھی 30،40 سال پرانی ہیںجس پر چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ اس ادارے کی نجکاری بھی ممکن نہیںہے الیکشن جیسے حساس معاملات اس ادارے سے وابستہ ہیں مگر اس ادارے نے پورے انتخابی عمل کویرغمال بنایا ہوا ہے ادارے کو چلانا ہے یا نہیں چلانا ہے فیصلہ خود کریں، جس پر جنیدا نوار چوہدری نے کہا کہ بہتر مارکیٹنگ پلان دے کر اس ادارے کو فائدہ مند بنایا جاسکتاہے پبلک اکائونٹس کمیٹی سفارشات تیا ر کرکے تمام وزارتوں اور اداروں کو ارسال کرے کے ہر قسم کی چھپائی کا کام پرننٹگ کارپوریشن آف پاکستان سے کرایا جائے، پرننٹنگ کارپوریشن آف پاکستا ن کے حکام نے بتایا کہ ادارے کو بہتر بنانیکی کوششیں کررہے ہیں۔