جب پارلیمنٹ انگوٹھے کے نیچے تھی تو عدالت نے راستہ نکالا: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے فوجی عدالتوں کے قیام، 18ویں اور 19ویں ترمیم کیخلاف دائر درخواستوں کی سماعت میں وکیل حامد خان کو 18ویں ترمیم کیخلاف دلائل مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے،  عدالت نے مقدمہ کے وکلاء سے استفسار کیا ہے کہ وہ وجوہات بتائی جائیں جس کی بنیاد پر کسی آئینی ترمیم کوکالعدم قرار دیا جا سکتا ہے، لوگ آئین میں ترمیم کرکے رونا شروع کر دیتے ہیں اور کہتے ہیںکہ ہم مجبور تھے تمام اختیارات کا ایک ہاتھ میں ہونا خطرناک ثابت ہو سکتا ہے کیا کوئی ایسا چیک ہے کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو دیکھا جا سکے کہ وہ آئین و قانون سے متصادم ہے کہ نہیں؟ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ہمارآئین اقلیتوں کو اپنے عقیدے کے مطابق زندگی گزارنے کو یقینی بناتا ہے۔ جسٹس سرمد  جلال عثمانی نے کہا کہ بنگلہ دیش کے آئین میں سیکولرازم کو تخفظ حاصل ہے اور وہاں کی پارلیمنٹ سیکولزازم کیخلاف کوئی قانون بنا سکتی ہے نہ اس کیخلاف کوئی ترمیم کرسکتی ہے جسٹس جواد  نے وکیل حامد خان سے استفسارکیاکہ کیا ہمارے آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ ہے جس پر حامد خان نے کہاکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کا معاملہ عدالت میں زیرسماعت ہے اور اسے طے ہونا ہے جس پرجسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تقسیم اختیارات کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے ، چیزیں اس وقت مختلف ہوتی ہیں جب پارلیمنٹ متفقہ طور پر آئین میں ترمیم کرتی ہے، بھارت میں  آئینی خد و خال سے متصادم ترامیم  کالعدم قرار دے دی گئیں، پارلیمنٹ کہتی ہے کہ اسے ترامیم کا حق حاصل ہے مگر اس کی قانون سازی پر آئین کچھ قدغن بھی لگاتا ہے، نیچر اور ویلیوز میں فرق ہوتا ہے۔ ضیاء الحق نے موجودہ قوانین کے ہوتے ہوئے ریفرنڈم کروائے۔ وکیل حامد خان کی جانب سے بھارتی آئین کا بار بار تذکرہ کرنے پرجسٹس جواد نے ا ن سے کہاکہ بھارتی آئین کا حوالہ دینا کوئی اچھی مثال نہیں آپ پاکستان اور بھارت دونوں کے  آئینوں کا موازنہ کرلیں بھارت کا آئین کچھ کہتا ہے ہمارا آئین کچھ اور، حامد خان نے کہا کہ پاکستان کا 1956ء کا آئین بھارتی آئین سے بہت مماثلت رکھتا ہے، ریاست پالسیی، بنیادی حقوق کے خلاف ترامیم نہیں کی جاسکتیں۔ جسٹس جواد نے کہا ہمارے آئین کا کوئی بنیادی ڈھانچہ ہے؟جسٹس ثاقب نثارنے کہاکہ ہم نے یہ امر طے کرنا ہے کہ بھارتی آئین  بنیادی ڈھانچہ کے حوالے سے کیا کہتا ہے، اندراگاندھی کیس میں بھارتی سپریم کورٹ قراردے چکی ہے کہ فیصلہ کے ذریعے قانون سازی نہیں ہوسکتی، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ جب بھی آئین کی جانب سے راستہ بند ملتا ہے تو سپریم کورٹ اکیڈمک ڈاکٹرائن کے تحت  جمہوریت اور عوام کے حقوق کے تخفظ  کیلئے راستہ تلاش کرتی ہے، ہر دور میں ڈکٹیٹرز قانون سے کھیلے ہیں یہاں جب بھی ڈکٹیٹر آئے عدلیہ نے عوام کے حقوق کو یقینی بنایا ہے جس کیلئے اسی ڈاکٹرائن کو بروئے کار لایا گیا کیونکہ ایسے وقت پارلیمنٹ دبائو میں تھی اور اقلیت کو اکثریت کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی۔ حامد خان نے کہاکہ آل پارٹیزکانفرنس میں آرمی چیف بھی موجود تھے جس پر چیف جسٹس نے ان سے کہاکہ آپ 18ویں ترمیم کیخلاف دلائل دے رہے ہیں خود کو وہاں تک ہی محدود رکھیں ہمیں وہ وجوہات بتائی جائیں جس  کی بنیاد پرکسی آئینی ترمیم کوکالعدم قراردیا جا سکتاہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے کن بنیادوں پر آئینی ترمیم کو کالعدم قرار دیا، حامد خان نے جواب دیا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بنیادی خدوخال اور بنیادی ڈھانچہ کی بنیاد پر ایسا کیا۔ جسٹس ثاقب نثارنے بھی کہاکہ آئین کے تین ان بنیادی خدوحال  سے عدالت کوآگاہ کیا جائے جس میں ترمیم نہیں کی جاسکتی،حامد خان نے کہا کہ جب کوئی  قانون سازی آئین کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف ہو، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہو ملکی پالسیی کے خلاف ہو۔ آن لائن کے مطابق جسٹس آصف سعید نے کہا کہ جب پارلیمنٹ انگوٹھے کے نیچے تھی تو سپریم کورٹ نے راستہ نکالا، اگر پارلیمنٹ کہتی ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتی ہے تو کیا یہ درست ہو گا؟ تقسیم اختیارات کا طریقہ کار آئین میں موجود ہے، چیزیں اس وقت مختلف ہوتی ہیں جب پارلیمنٹ متفقہ طور پر آئین میں ترمیم کرتی ہے۔ جب پارلیمنٹ کہتی ہے کہ وہ سب کچھ کر سکتی ہے تو پھر بنیادی آئینی ڈھانچہ بھی ختم کر دے۔