اسلام آباد ہائیکورٹ نے شفقت حسین کی پھانسی پر عملدرآمد ایک روز کیلئے روک دیا

اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ نے بچے کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں موت کی سزا پانے والے مجرم شفقت حسین کی پھانسی پر عملدرآمد ایک دن کے لئے روک دیا ہے۔ شفقت حسین کو آج کراچی میں پھانسی دی جانا تھی۔ عدالتی حکم کے باعث شفقت حسین کی پھانسی پر عملدرآمد تیسری بار موخر کیا گیا ہے۔ فاضل عدالت نے مقدمے کی سماعت یومیہ بنیادوں پر کرنے کی بھی ہدایت کی ہے منگل کو عدالت عالیہ کے جسٹس اطہر من اللہ نے مقدمے کی سماعت کی درخواست گزار کے وکیل ڈاکٹر طارق حسن نے بتایا کہ اْن کے موکل کے خلاف قتل کے مقدمے میں عدالتی کارروائی شروع کی گئی تو وہ کم عمر تھے اور ان کو سزا دینے سے متعلق یہ اس اہم پہلوکو نظر انداز کر دیا گیا۔ فاضل عدالت نے استفسار کیا کہ عمر کے تعین کا معاملہ نہ تو ٹرائل کورٹ میں اْٹھایا گیا اور نہ ہی ہائیکورٹ میں اس پر کونسل نے عدالت کو بتایا کہ کہا کہ چونکہ ان کے موکل کو مقدمے کی پیروی کے لیے سرکاری وکیل میسر تھا اس لئے اس سے قبل اس کی عمر کے معاملے کو صرف نظر کیا گیا ہے۔ فاضل جسٹس کے استفسار پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ مجرم شفقت حسین کی عمر کے تعین کے احکامات وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کئے گئے تھے جس کے بعد ایف آئی اے نے اس معاملے کی تحقیق کی ہے اس پر فاضل جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مجرم کی عمر کا تعین ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے نہیں بلکہ جوڈیشل کمیشن کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ فاضل عدالت نے مذکورہ حکم دیتے ہوئے مقدمے کی سماعت ملتوی کردی ہے۔ واضح رہے کہ شفقت حسین کو قتل کے اس مقدمے میں آج پھانسی دی جانا تھی قبل ازیں انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے سزائے موت کے اس قیدی کی کم عمری پر اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے باعث صدر نے وزارت داخلہ کی سفارش پر 24مارچ کو دی جانے والی پھانسی کی سزا یک ماہ کے لئے موخر کی تھی بعدازاں ایف آئی اے کی رپورٹ کی روشنی میں 24اپریل کو دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری کرتے ہوئے اسے 6مئی کو پھانسی دینے کا حکم دیا تھا تاہم عدالتی حکم کے باعث اب شفقت حسین کی پھانسی پرعمل درآمد اب تیسری بار بھی موخرکردی گئی ہے ۔