آئندہ مالی سال میں ریونیو کا ہدف 3 ہزار ارب روپے سے زائد ہو گا

اسلام آباد (عترت جعفری)  آئندہ مالی سال میں ایف بی آر کے ریونیو کا ہدف 3 ہزار ارب روپے سے زائد ہو گا جبکہ جنرل سیلز ٹیکس کی شرح کم کر کے بلاامتیاز نافذ کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی اور دولت ٹیکس نافذ کرنے کی تجویز کو قبول کرنے کا بھی کوئی امکان نہیں ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ آئندہ مالی سال میں افراط زر اور جی ڈی پی گروتھ کی شرح‘ ایگزامشن کے خاتمہ‘ نان فائلرز کے لئے ود ہولڈنگ ٹیکسوں میں اضافہ ‘ انتظامی اقدامات‘ ٹیکس نادہندگان کے خلاف جاری مہم میں شدت لانے کے باعث ریونیو کا ہدف 3 ہزار ارب روپے سے زائد مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جی ڈی پی گروتھ ریٹ کے ہدف اور افراط زر کی شرح کے باعث قریباً 300 ارب روپے کا اضافہ ایف بی آر کو بیٹھے بٹھائے مل جائے گا۔ اس طرح اگر 2800 ارب روپے کے گزشتہ سال کے اصل  ہدف کی بنیاد کو لیا جائے تو یہ  31 سو ارب روپے بن جاتے ہیں‘ تاہم رواں مالی سال میں ریونیو قریباً ساڑھے 26 سو ارب روپے تک جانے کی توقع ہے۔ آئندہ بجٹ میں ایک سو ارب روپے سے زائد کی ایگزامشنر ختم کی جائیں گی‘ جبکہ نان فائلرز کے لئے ودھ ہولڈنگ ٹیکسوں کی شرحوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ زیرو ریٹنگ کے حامل متعدد انسپکٹرز کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔ ان اقدامات کی وجہ سے ایف بی آر ریونیو کا ہدف 3 ہزار ارب روپے سے زائد اور 35 سو ارب روپے تک ہو سکتا ہے۔